سعودی شہزادے کا ’سر قلم‘ کرتے وقت شاہی خاندان کے لوگ ہاتھوں میں کونسی ایسی چیز اٹھائے ہوئے تھے؟


مدینہ منورہ (اردو آفیشل ) سعودی عرب میں شاہی خاندان کے اہم ترین رکن کو منگل کے روز سزائے موت دی گئی ہے، لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ جس شہزادے کا سر قلم کیا گیا ہے وہ سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان کا بھتیجا تھا۔تفصیلات کے مطابق شاہی خاندان کے چشم و چراغ شہزادہ ترکی بن سعود الکبیر کو منگل کے روز اپنے ہی دوست عادل المحیمید کے قتل کے جرم میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان کے حکم پر سزائے موت دی گئی۔ اس موقع پر شہزادے کے اہل خانہ نے مقتول کے لواحقین

 

کو دیت کی رقم دینے کی بھرپور کوشش کی تاہم مقتول کے والد نے یہ رقم لینے سے انکار کردیا جس کے بعد سعودی دار الحکومت ریاض میں شہزادے کا سر قلم کردیا گیا۔رپورٹ کے مطابق سزائے موت کے وقت سعودی شاہی خاندان کے سینکڑوں معززین سمیت دیگر حکومتی شخصیات اربوں ریال ہاتھ میں لے کر دیت دینے کیلئے تیار کھڑے تھے تاہم مقتول کے والد نے یہ رقم لینے سے انکار کردیا۔ دنیا میں جرم کے بعد جہاں بھی انصاف کا بول بالا ہوجائے وہاں معاشرہ درستگی کی جانب گامزن ہونے لگتا ہے اور ریاست بھی اپنی جڑیں مضبوط کر لیتی ہے۔کچھ ایسا ہی سعودی عرب میں ہوا ہے جہاں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے حکم پر شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے شہزادے ترکی بن سعود الکبیر کو قتل کے جرم میں سزائے موت دے دی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق شہزادہ ترکی بن سعود الکبیر کو آج شاہ سلمان کے حکم پر قصاص میں سزائے موت دی گئی ہے۔شہزادہ ترکی نے تین سال قبل عادل المحیمیدنامی نوجوان کو قتل کیا تھا جس کے بعد سعودی پولیس نے شہزادے کو گرفتار کرلیا تھا۔ جرم ثابت ہونے پر سعودی سپریم کورٹ نے شہزادے کو موت کی سزا سنائی جس کے بعد شہزادے کے اقرباء نے مقتول کے لواحقین کو منہ مانگی دیت دینے کی کوشش کی۔لیکن مقتول کے لواحقین نے کسی قسم کی دیت لینے سے انکار کردیا۔جس پرمنگل کو شاہ سلمان کے حکم پر سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شہزادہ ترکی کو سزائے موت دے دی گئی۔شاہ سلمان کے اس حکم پر شہریوں نے سوشل میڈیا پر انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔
You cannot copy content of this page