بھارت پاکستان کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دہشتگردی میں تیسرے نمبر پر آ گیا،امریکی محکمہ خارجہ


بھارت پاکستان کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دہشتگردی میں تیسرے نمبر پر آ گیا،امریکی محکمہ خارجہ
اُردو آفیشل۔ امریکی محکمہ خارجہ کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشتگردی کی ترویج میں مصروف بھارت ، افغانستان اور عراق کے بعد دہشتگردی سے متاثر ہونے والا تیسرا ملک بن گیاہے جس میں 2016 کے دوران 927 دہشتگردی کے واقعات ہوئے اور ان میں سے اکثر واقعات کسی مسلمان کی طرف سے نہیں کیے گئے بلکہ زیادہ تر واقعات میں ہندو ہی ملوث رہے ہیں، اس سے پہلے پاکستان دہشتگردی سے متاثرہ ممالک میں تیسرے نمبر پر تھا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اپنے کارندوں کے ذریعے دہشتگردی کروانے والے بھارت کے اپنے گھر میں یہ آگ بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ 2016 میں دنیا بھر میں دہشتگردی کے 11 ہزار 72 واقعات پیش آئے جن میں سے 927 یعنی 16 فیصد بھارت میں ہوئے۔ 2015 میں بھارت میں 798 دہشتگردی کے واقعات پیش آئے تھے ۔ بھارت میں ہونے والی دہشتگردی کے نتیجے میں 2015 میں 289 افراد ہلاک اور 500 زخمی ہوئے تھے جبکہ 2016 میںہلاکتوں میں 17 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 337 تک پہنچ گئی جبکہ زخمیوں کی تعداد 636 رہی۔
دوسری جانب آپریشن ضربِ عضب، آپریشن ردالفساد سمیت بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کے بعد پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں بتدریج کمی آ رہی ہے ، یہاں 2015 میں ایک ہزار 10 دہشتگردی کے واقعات پیش آئے تھے جبکہ 2016 میں پاکستان میں دہشتگردی کے 734 واقعات پیش آئے جو گزشتہ سال سے 27 فیصد کم تھے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کو اندرونی دہشتگردی کا سامنا ہے اور ان واقعات میں زیادہ تر ہندو ہی ملوث ہیں۔ رپورٹ میں حریت پسند نکسلز کو داعش اور طالبان کے بعد دنیا کا تیسرا خطرناک دہشتگرد گروپ قرار دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں ہونے والے دہشتگردی کے ہر واقعے کے تانے بانے بھارت سے ہی ملتے ہیں، خواہ وہ طالبان کے ذریعے ہو یا بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے ذریعے ، ہر واقعے کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسی را کا کردار صاف اور واضح نظر آتا ہے۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو خود بھی پاکستان میں دہشتگردی کی متعدد وارداتوں کا اعتراف کرچکا ہے لیکن دوسری جانب بھارت آج تک ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا جس سے یہ ثابت کیا جا سکے کہ پاکستان نے بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ہے۔

You cannot copy content of this page