جب شلوار اتاری تو پھر کیا ہوا؟


دوستوہوسکتاہے یہ کہانی آپ کوبری لگے لیکن اس کہانی کے پس منظرمیں جوحقیقت بیان کی گئی ہے وہ معاشرے میں ناسورکی طرح پھیل رہی ہے۔میں نے لمبی سانسیں بھرتے ہوئے نکی کوچھوڑااورسائیڈ پرصوفے کے اوپربیٹھتے ہوئے سگریٹ سلگایااورکش لینے لگا۔نکی بھی اپنے با ل سمیٹتی ہوئی میرے قریب آکربیٹھ گئی میری پینٹ ابھی تک نیچے ہی تھی لیکن میں نےاپناانڈروئیراوپرکرلیاتھا۔

نکی میری ننگی رانوں پرہاتھ پھیرنے لگی اورچمکارتے ہوئے مجھے بولی ـ’’سراب میں جائوں‘‘میں نے نکی کے چہرے کے تاثرات دیکھے مجھے اس کے چہرے پرخوشی کی بجائے اداسی اورپریشانی کے آثاردکھائی دیے۔نکی سانولی رنگت کی مالک تھی لیکن اس کاسانولاچہرہ نہایت ہی پرکشش تھا۔میں نے چہرے کے نیچے دیکھااس کے سفیدرنگ کے بریزئیرکے دوبٹن کھلے ہوئے تھے اورصرف ایک بٹن ہی بندتھا۔آدھے سے زیادہ کھلے بریزئیرمیں سے کی چھاتیاں صاف دکھائی دے رہی تھیں جوکہ نہایت شاندارمحسوس ہورہی تھیں ۔بریزئیرسے نیچے پیٹ ننگاتھااورجب میرادھیان اس کی شلوارپرپڑاتوجلدی جلدی میں اس نےشلوارالٹی پہن رکھی تھی۔اس نے پھرمجھ سے پوچھا’’سراب میری پروموشن ہوجائے گی نا؟‘‘دراصل نکی میرے جونیئرسٹاف کی ممبرتھی اورچنددن پہلے ہی اس نے مجھ سے گزارش کی تھی کہ اس کے گھرکے حالات اچھے نہیں اورموجودہ تنخواہ میں اس کاگزارہ نہیں ہوپارہا۔لہٰذااس کی پروموشن کی جائے تاکہ اس کی تنخواہ میں اضافہ ہوسکے ۔میں نے اسے کہاتھاکہ پروموشن کے لیے تھوڑی سی قربانی دینی پڑتی ہے ۔اس کے پوچھنے پرمیں نے بتایا

You cannot copy content of this page