خوبصورت لڑکی اور جوان

ایک نوجوان لڑکا جو کہ ایک مدرسے کا طالب علم تھا وہ روزانہ اپنے مدرسے جاتا اور کسی کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا تھا ۔ جس راستے سے گزرتا وہاں ایک امیر اور خوبرو خاتون کا گھر بھی تھا وہ اتنی خوبصورت تھی کہ جب باہر نکلتی تو لوگ کام چھوڑ کر اس کو دیکھنے میں مگن ہو جاتے ۔ لیکن یہ لڑکا ایسا پکا تھا کہ کسی بھی طور اس کی طرف نہ دیکھتا ۔اور عورت سوچتی کہ شاید یہ اندھا ہے یا اس نے مجھے دیکھا نہیں ۔ دن گزرتے گئے لیکن اس نے کبھی بھی اس عورت پر نظر نہیں ڈالی ۔ جس سے اس عورت میں خود سے ایک  انا کی ضد بیدار ہوگئی اور اس نے اس جوان کو سبق سکھانے کی ٹھان لی ۔ ایک دن  جوان معمول کے مطابق گلی سے گزر رہا تھا کہ ایک بوڑھی خاتون نے اسے روک لیا ۔ اور کہا کہ میری مالکن آُپ کو اندر بلا رہی ہے جوان نے پوچھا کہ کیوں بلا رہی ہے تو اس نے کہا کہ  کوئی مسئلہ پوچھنا چاہتی  ہے لیکن وہ باہر نہیں نکل سکتی اس لئے آپ اندر آجائے ۔ سادہ دل طالب اس کے ساتھ گھر کے اندر چلا گیا لیکن یہ نہیں جانتا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ، خاتون نے اس ککمرے میں پہچایا جہاں وہ عورت ا س کاانتظار کر رہی تھی ۔ اس کو دیکھتے ہی حیران رہ گئی کہ کتنا خوبصورت جوان ہے لیکن کبھی میری طرف اس نے دیکھا ہی نہیں اور ابھی بھی نظر جھکائے کھڑا ہے ۔ اس نے لڑکے سے اپنے دل کی بات کہ دی ۔ لڑکے نے انکار کر دیاتو اس نے عجیب بات کہ دی ۔ خاتون نے کہا ۔ اگر تم نے میری بات نہیں مانی تو میں شور مچاؤں گی کہ یہ لڑکا میری عزت لوٹنےکے لئے میرے گھر میں گھس آیا ہے اس کے بعد جو تمہارے ساتھ ہوگا وہ تمہیں پتا ہی ہوگا ۔ یہ سن کر لڑکا بے حد پریشان ہوگیا ۔ اور سوچنے لگا کہ اب کیا کریں ۔ اتنے میں اس کے ذہن میں خیال آیا ۔ اس نے خاتون سے کہا کہ مجھے تمہاری بات منظور ہے لیکن مجھے باتھ روم جانا ہے ۔ خاتون نے خوش ہوتے ہوئے کہا ہاں ضرور جاؤ لیکن جلدی آنا مجھ سے صبر نہیں ہو پارہا ۔لڑکا اندر گیا ۔ باتھ روم میں موجود پاخانہ اٹھایا اور خود پر اچھی طرح سے مل لیا ۔ اور اس کے بعد باہر نکل آیا ۔ خاتون نے جوں ہی ان کا حلیہ دیکھا تو چیخ اٹھی  اور کہا : دفعہ ہو جاؤ میرے گھر سے میں تو تمہیں پہلے سے ہی پاگل سمجھ رہی تھی ۔ لڑکا وہاں سے نکلا اور سیدھا نہر پر گیا اور خوب خود کو صاف کیااس کے بعد مسجد گیا نماز پڑھی اور سبق میں شریک ہو گیا ۔ سبق پڑھتے ہوئے استاد نے کہا ۔ یہ خوشبو کس نے لگائی ہے ۔ اس جوان نے جیسے ہی یہ سنا تو اور خود میں سمٹ گیا اور سوچنے لگا کہ شاید پاخانہ کی بو ابھی بھی کپڑوں سے آرہی ہے ۔ اور استاد طنزیہ خوشبو کہ رہے ہیں ۔ خیر کچھ دیر بعد استاد نے دوبارہ پوچھا تو کسی نے بھی جواب نہیں دیا جس کے بعد استاد ہر ایک کو بلانے لگ گئے اور اسکے کپڑے سونگنے لگ گئے ۔ جب اس لڑکے کی باری آئی تو شرمند ہ سا استاد کے پاس گیا ۔ استاد جب اس کے کپڑے سونگھے تو غصہ سے کہا  : خوشبو تمہارے کپڑوں سے آرہی ہے اور بتا تا نہیں کیوں ؟ یہ سن کر وہ جوان رونے لگا اور کہا استاد جی اس میں میری کوئی غلطی نہیں اور پوری کہانی سنادی ۔ استاد نے کہانی سنی تو خوشی سے ا س کو گلے لگایا اور کہا کہ میں طنز نہیں کر رہا تمہارے کپڑوں سے واقعی خوشبو آرہی ہے ۔۔ اللہ نے تمہاری ملی ہوئی غلاظت کی بدبو کو خوشبو میں بدل لیا ہے اور اس کا مطلب ہے کہ تمہارا عمل اللہ کو بے حد پسند آیا ہے ۔