کتے کی تخلیق


مذاہب کی قدیم کتابوں کے مطابق ابلیس یعنی شیطان جن تھا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی عبادت کے باعث اسے فرشتوں میں شامل کر لیا بعدازاں اس کی ریاضت کا سلسلہ جاری رہا‘ اس کائنات کا کوئی ایسا چپہ‘ کوئی ایساٹکڑا نہیں تھا جس پر ابلیس نے سجدہ نہ کیا ہو‘ یہ ان سجدوں‘ ان ریاضتوں اور ان عبادتوں کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو فرشتوں کا سردار بنا دیا.لیکن پھر شیطان غرور کا شکار ہوگیا اور اس نے مٹی کے پتلے یعنی آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا اور یہاں سے خیر اور شر کی طاقتوں کے درمیان جنگ کا آغاز ہوا.

قدیم صحائف میں لکھا ہے کہ جب شیطان کو حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا

تو اس نے حضرت آدم ؑ پر حقارت سے تھوک دیا تھا‘ شیطان کا تھوک حضرت آدم ؑ کے پیٹ پر گرا تھا بعدازاں اللہ تعالیٰ نے حضر ت جبرائیل ؑ کو تھوک والی مٹی نکالنے کا حکم دیا‘ حضرت جبرائیل ؑ نے یہ مٹی نکالی تو حضرت آدم ؑ کے پیٹ پر ایک چھوٹا ساسوراخ بن گیا ‘ یہ سوراخ ناف کی شکل میں آج بھی ہمارے پیٹ پر موجود ہے .اللہ تعالیٰ نے ناف کی مٹی سے بعدازاں کتا بنایا تھا‘کتے میں تین خصلتیں ہوتی ہیں‘ یہ انسان سے محبت کرتا ہے‘

کیوں؟ کیونکہ یہ انسان کی مٹی سے بنا تھا‘ یہ رات کو جاگتا ہے‘ کیوں؟ کیونکہ اسے حضرت جبرائیل ؑ کے ہاتھ لگے تھے اور یہ انسان پر بھونکتا ہے‘ کیوں؟ کیونکہ اس میں شیطان کا تھوک شامل ہے.آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کتا دنیا کی واحد مخلوق ہے جو شیطان کو دیکھ سکتی ہے‘ شائد یہی وجہ ہے رات کے اندھیرے میں جب شیطانوں کے قافلے آسمانوں سے اترتے ہیں توکتے اوپر دیکھ کر ایک خوفناک آواز نکالتے ہیں.

..

You cannot copy content of this page