ٹوائلٹ میں سونے سے لے کر کمپنی کا مالک ہونے تک


اسکا بچپن انتہائی تکلیف دہ گزرا. اس کا باپ اس پر، اس کے بہن بھائیوں اور اسکی ماں پر جمسانی تشدد کرتا.

اس کے باپ نے ماں کو کئی بار عدالتوں کے چکر تک لگوا دیے. اب چونکہ انکی نگہداشت کرنے والا کوئی نہ تھا، یہ سب بہن بھائی بچوں کے نگہداشت سینٹر میں چلے گئے اور وہاں رہنے لگے. 8 سال کی عمر میں کرس گارڈنر کو اپنے ماں باپ کو چھوڑنا پڑا. کرس کی پہلی شادی بھی اسکے میڈیکل کیریئر کی وجہ سے ذیادہ عرصہ چل نہ سکی. وہ طبی آلات بیچنے کی نوکری سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا. بے گھر ہوا

وہ اپنے بیٹے کو لے کر کبھی ہوٹلوں، پارکوں، فٹ پاتھ اور یہاں تک کہ ٹوائلٹ روم بھی رات گزارنے پر مجبور ہوا. اس نے ایک بروکریج کمپنی میں تواتر سے دن رات محنت کی تاکہ محنت کی تاکہ کم از کم اپنے لیے رات رہنے کے لیے چھت پیدا کر سکے.کچھ کمائی کے بعد رہنے کے لیے ایک جگہ کرایے پر لے لی. اسی کمپنی میں مسلسل محنت اور 1982ء میں لائسنسنگ کے امتحانات پاس کر کے وہ ڈین وٹر کمپنی کا تاحیات ملازم لگ گیا. چنانچہ اس نے اپنی ایک بروکریج کمپنی گارڈنر رچ کے نام سے 1987ء میں بنائی،

جسا کا 75٪ حصہ اس کی ملکیت ہے. 2006 میں اس نے کمپنی کا چھوٹا سا داؤ کئی ملین ڈالرز میں بیچ دیا. اب وہ کرسٹوفر گارڈنر انٹر نیشنل ہولڈنگز کا چیف ایگیزکٹو آفیس بن چکا تھا. جس کے دفاتر اب امریکہ کے مختلف شہروں میں کام کرنے لگے تھے. اس کی زندگی کو ہالی ووڈ کی ریکارڈ توڑ فلم دی پرشوٹ آف ہیپی نیس میں نمایاں کیا گیا. جسے دنیا بھرمیں بہت پسند کیا گیا. ہمت اور محنت کامیابی کی طرف ایسے اقدام ہیں جنکی وجہ سے دنیا میں اپنی کامیابی کا جھنڈا گاڑھا جا سکتا ہے.

..

You cannot copy content of this page