پلک کے بال


ایک روایت میں آیا ہے کہ قیامت کے دن ایک وقت ایسا آئے گا کہ جب جہنمیوں کو نکال لیا جائے گا. شفاعت کرنے والے شفاعت کر لیں گے حتیٰ کہ اور کوئی شفاعت کرنے والا نہیں رہے گا.

اس وقت ایک بندہ بڑا پریشان ہو گا کہ میراتو شفاعت کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے، میں کیسے نکلوں گا.

اس وقت اس کی پلکوں کا ایک بال ہو گا، وہ بال اللہ رب العزت سے ہم کلامی کرے گا اورکہے گا: اے پروردگار! پوری زندگی میں یہ بندہ ایک مرتبہ تیری محبت میں اور گناہوں سے نادم ہو کر رویا تھا اور اس کی آنکھ سے اتنے آنسو نکلے تھے

کہ میں تر ہوگیا تھا، میں بال گواہی دیتاہوں. پروردگار عالم فرشتے کو حکم دیں گے کہ ہم نے اس بال کی گواہی قبول کی اعلان کر دو کہ ہم نے اس کو جہنم سے نکال کر جنت عطا کر دی.

..

You cannot copy content of this page