قبر کیا سلوک کرتی ہے؟


حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ ایک مرتبہ جنازہ پڑھنے گئے..

. اب ذرا غور کیجئے گا کیونکہ یہ عاجز جو نکتہ آپ کے ذہن میں بٹھانا چاہتا ہے وہ فوراً آپ کے ذہن میں آ جائے گا… جنازہ پڑھنے کے بعد قبرستان میں ایک قبر کے پاس کھڑے ہو کر انہوں نے رونا شروع کر دیا، لوگوں نے پوچھا: حضرت! آپ تو اس جنازہ کے سرپرست تھے

آپ پیچھے کیوں کھڑے ہو گئے؟ فرمانے لگے کہ مجھے اس قبر سے ایسی آواز محسوس ہوئی جیسے یہ میرے ساتھ ہم کلامی کر رہی ہو؟ فرمایا کہ قبر نے مجھ سے یہ ہم کلامی کی کہ اے عمر بن عبدالعزیز! تو مجھ سے یہ کیوں نہیں پوچھتا کہ جو بندہ میرے اندر آتا ہے تو میں اس کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہوں؟ میں نے کہا، بتا دو، قبر کہنے لگی کہ میں اس کے ساتھ یہ سلوک کرتی ہوں کہ… اس کے گوشت کو کھا جاتی ہوں…. اس کی انگلیوں کے پوروں کو اس کے ہاتھوں سے جدا کر دیتی ہوں….

اس کے ہاتھوں کو اس کے بازوؤں سے جدا کر دیتی ہوں…. اس کے بازوؤں کو اس کے جسم سے جدا کر دیتی ہوں…. یوں اس کی ہڈیوں کو جدا کرکے ان کو بھی کھا جاتی ہوں.حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ فرمانے لگے کہ جب قبر نے یہ بات کہی تو مجھے رونا آ گیا.

..