یہودی کا کنواں


اچھے وقتوں میں شیخ صاحب نے ایک یہودی سے کنواں خرید لیا۔ دوسرے دن بازار میں جا رہے تھے کہ یہودی نے آواز دیکر بلا لیا اور کہا: شیخ صاحب، میں نے آپ کو کنواں بیچا ہے اس کا پانی نہیں۔ اگر آپ نے اس کنویں کا پانی استعمال کیا تو مجھے اس کے پیسے دینا۔ شیخ صاحب نے کہا: یار، میں تو کل سے خود پریشان ہوں اور آج تمہارے پاس آنا ہی چاہتا تھا۔ یہ تم نے کیا مجھے کنواں بیچ کر پھنسا دیا ہے؟ اب یا تو جلدی سے میرے کنویں سے اپنا پانی نکال کر مجھے کنواں خالی کر دو، ورنہ مجھے میرے کنویں میں پانی رکھنے کا کرایہ دیا کرو۔

 

اچھے وقتوں میں شیخ صاحب نے ایک یہودی سے کنواں خرید لیا۔ دوسرے دن بازار میں جا رہے تھے کہ یہودی نے آواز دیکر بلا لیا اور کہا: شیخ صاحب، میں نے آپ کو کنواں بیچا ہے اس کا پانی نہیں۔ اگر آپ نے اس کنویں کا پانی استعمال کیا تو مجھے اس کے پیسے دینا۔ شیخ صاحب نے کہا: یار، میں تو کل سے خود پریشان ہوں اور آج تمہارے پاس آنا ہی چاہتا تھا۔ یہ تم نے کیا مجھے کنواں بیچ کر پھنسا دیا ہے؟ اب یا تو جلدی سے میرے کنویں سے اپنا پانی نکال کر مجھے کنواں خالی کر دو، ورنہ مجھے میرے کنویں میں پانی رکھنے کا کرایہ دیا کرو۔

You cannot copy content of this page