اگر کسی ایسے آدمی کے ساتھ رات گزاری جائے جو ۔۔۔کنگنا رناوت نے ایسی بات کہہ دی کہ نیا ہنگامہ برپا کردیا


بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت اپنے منہ پھٹ ہونے کی وجہ سے الگ ہی پہچان رکھتی ہیں، اور اکثر ایسے بیانات دیتی ہیں جن سے ہنگامہ برپا ہوجاتا ہے، اب ان کی نئی فلم سمرن آنے والی ہے جس کی تشہیری مہم کے دوران ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے ایسی بات کہہ دی کہ ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے.
اپنے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران کنگنا رناوت نے بالی ووڈ میں شادی شدہ لوگوں کے کم عمر کی نوجوان خواتین کے ساتھ افیئرز کے بارے میں کھل کر بات کی .

ان کا کہنا تھا ’ جب کسی جوان لڑکی کو کوئی شادی شدہ مرد اپنی دکھ بھری کہانی سناتا ہے اور بتاتا ہے کہ اس کی بیوی اسے مارتی ہے تو وہ اس کہانی پر بہت توجہ دیتی ہے، اگر کوئی شخص میرے چکر میں ہے اور اسے میرے ساتھ بات کرنے کیلئے ایک منٹ کا بھی موقع مل جائے تو وہ یہی کہے گا کہ اس کی بیوی دنیا کی ظالم ترین عورت اور وہ خود دنیا کا سب سے مظلوم انسان ہے، اور میں ہی وہ شخصیت ہوں جو اسے اس مصیبت سے نکال سکتی ہے‘.

کنگنا نے کہا کہ خواتین کو اس قسم کی بیہودہ کہانیوں پر یقین کرنے سے باز رہنا ہوگا، اس میں کسی قسم کی سچائی نہیں ہے، ’ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ میں اس پر اب یقین کرلوں گی، نہیں کسی صورت بھی نہیں‘.کنگنا کا کہنا تھا کہ وہ اپنی زندگی میں کبھی بھی کسی ایسے شادی شدہ شخص سے نہیں ملیں جو اپنی شادی سے خوش ہو، ’ ہر عمر کے مرد ہی پریشان نظر آتے ہیں‘. اداکارہ کا کہنا تھا کہ پہلے تو کم عمری کے باعث آپ اس قسم کی باتوں پر یقین کرکے شادی شدہ افراد کے عشق میں مبتلا ہو جاتی ہیں لیکن 25 سال کی عمر کا ہندسہ پار کرنے کے بعد آپ اس قسم کی لغو باتوں پر کان نہیں دھرتیں.

ایکسٹرا میریٹل افیئرز کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کنگنا رناوت کا کہنا تھا کہ جب وہ آف کیمرہ کام کر رہی تھیں اور پڑھائی کے ساتھ ماڈلنگ بھی کرتی تھیں تو بہت سے نوجوان، شادی شدہ اور بوڑھے لوگ انہیں اپنے ساتھ ان کی مرضی کے بغیر ہی باہر لے کر جانے کے خواہشمند ہوتے تھے.

کنگنا نے کہا کہ جب کسی کا افیئر چل رہا ہو اور وہ اپنے ساتھی سے تنگ آکر اسے انکار کردے تو کام کا ماحول بہت ہی خراب ہوجاتا ہے، اور جب آپ اپنے کولیگز کے ساتھ سونا بند کردیتی ہیں تو کام اور بھی مشکل ہوجاتا ہے، اس طرح کے افیئرز ہر جگہ ہی پائے جاتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ انہیں کسی تعلق کے دوران جسمانی تشدد کا سامنا نہیں کرنا پڑا، نہ ہی انہیں کبھی اپنے ساتھی فنکاروں کی جانب سے ہراساں کیا گیا ہے اس لیے وہ زبردستی کے جسمانی تعلقات کو فلم انڈسٹری سے نہیں جوڑ سکتیں.

..

You cannot copy content of this page