سماجی ویب سائٹ فیس بک نے تسلیم کرلیا کہ انہوں نے بیشمار کمپنیوں کو آپ کے نجی پیغامات (مسیجز) پڑھنے کی اجازت دی ہے


فیس بک نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ اس نے یوزرز کا پرائیویٹ ڈیٹا دوسری کمپنیوں کو دیا ہے لیکن ساتھ میں یہ بھی کہا کہ یہ ایک غیر اختیاری فعل تھا فیس بک نے ایک بلاگ پر یہ بات کہی جب نیویارک ٹائم نے ان کے بارے میں ایک انویسٹیگیشن کی جس کے مطابق فیس بک نے یوزرز کا ڈیٹا حتیٰ کہ وہ میسیجز جو انہوں نے ڈیلیٹ بھی کر دیے تھے ان کو پڑھنے کا اختیار بھی نیٹ فلیکس رائل بینک آف کینیڈا اور سپوٹیفائی کو دیا
منگل کے روز شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق فیس بک نے یاہو کمپنی کے سرچ انجن کو لوگوں کے فرینڈلسٹ کی تمام تفصیل مہیا کی ہے لیکن اس میں بھی فیس بک کی مرضی شامل نہیں تھی۔

فیس بک کا کہنا تھا کہ دراصل جب کوئی صارف کسی ایپ کو فیس بک کے ذریعے سائن ان کرتا ہے تو گویا وہ اس بات پر راضی ہو جاتا ہے کہ وہ ایپ صارف کا تمام ڈیٹا دیکھ سکتا ہے اور اس میں تبدیلی بھی کرسکتا ہے۔

فیس بک کہ نمائندے کا کہنا تھا کہ کیا اپ کے میسیجز تک کسی تیسرے شخص کو رسائی حاصل ہے یاد رکھیں یہ دراصل آپ ہی کی وجہ سے ہے جب آپ کسی بھی دوسرے پروگرام کو فیس بک کے ساتھ سائن ان کرتے ہیں تو گویا آپ ان کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ وہ آپ کے ڈیٹا تک رسائی کر سکے آپ سپوٹیفائی کو ہی لے جب آپ سپوٹیفائی کی ڈیسک ٹاپ ایپ کو فیس بک کے ساتھ سائن ان کرتے ہیں تو آپ اس کے بغیر کوئی بھی میسج نہ ریسیو کر سکتے ہیں نہ بیچ سکتے ہیں بلکہ آپ کے تمام میسجز اسی کے واسطے سے جا رہے ہوتے ہیں فیس بک نے دراصل ان کو اختیار دے دیا ہوتا ہے کہ اس کے ذریعہ آپ کے میسیجز آئے
نیٹ فلیکس اور سپٌوٹیفائی کا کہنا تھا کہ ان کو علم نہیں تھا کہ ان کو اس حد تک کسی بھی آدمی کے ڈیٹا تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

نیٹ فلکس کا کہنا تھا کہ ہم کافی عرصے سے یہ کوشش کرتے ہوئے آرہے تھے کہ کیسے ہم نیٹ فلیکس کو زیادہ سے زیادہ سوشل سرکل میں متعارف کروائے اس کے لئے ہم نے 2014 میں ایک ایپلیکیشن بنائی تھی جس کے ذریعے کوئی بھی شخص کسی بھی ڈرامہ فلم یا ڈاکومنٹری کو اپنے میسنجر کے ذریعے اپنے دوستوں کو متعارف کروا سکتا ہے لیکن ہماری یہ ایپلیکیشن اتنی زیادہ مشہور نہ ہوسکی اور مارکیٹ میں نہ چل سکی لیکن اس دوران ہم نے کبھی بھی کسی بھی شخص کے پرائیویٹ میسجز کو دیکھنے اور معلومات تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی اس سپوٹیفائی کا بھی یہی کہنا تھا کہ اس دوران انہوں نے کبھی بھی کسی بھی شخص کے پرائیویٹ میسج جس کو پڑھنے کی کوشش نہیں کی ان کا کہنا تھا کہ فیس بک کے ساتھ ہمارے ہونے والے معاہدے کے بعد ابھی تک ہم نے اس کا کبھی بھی غلط استعمال نہیں کیا اور نہ کسی کا ڈیٹا چرانے کی کوشش کی کمپنی کے نمائندے کا کہنا تھا کہ جب کوئی شخص کسی گانے کو ڈاؤن لوڈ کرتا ہے یا کسی کو میسنجر کے ذریعے آگے فارمٹ کرتا ہے۔

Source Facebook

تو اس کے میسجز ہمارے سامنے شو ہو جاتے تھے لیکن اس کے بعد ہم نے یہ سلسلہ ختم کر دیااور اس کے بعد ہمیں کبھی بھی یہ ثبوت نہیں ملا کہ ہم نے کبھی کسی کا ڈیٹا استعمال کیا ہو یا اس تک رسائی حاصل کی ہو مائیکروسافٹ کے نمائندے نئےسی این بی سی نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا فیس بک سے معاہدے کے بعد ہم نے کبھی بھی صارف کے خفیہ میسی جس تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی ار بی سی کا کہنا تھا کہ انہوں نے فیس بک کے ساتھ صرف اس حد تک معاہدہ کیا کہ کوئی بھی فیس بک کا استعمال کرنے والے سارے اپنی رقم اپنے فیس بک کے دوستوں کو بھیج سکتا ہے اور وصول کرسکتا ہےاور یہ 2015 کو ختم کردیا گیاامیزون کا کہنا تھا کہ ہم صرف پرائویسی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے معلومات تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔

یاد رہے یہ فیس بک کا پرائیویسی کے بارے میں پہلاکیس نہیں ہےبلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان کو کیمبرج اینالیٹیک اسکینڈل کا بھی سامنا ہے اور مارچ میں ان کو بھاری جرمانہ بھی ہو چکا ہےیہ بات بھی سامنے آچکی ہیں کہ فیس بک کو کئی دفعہ ہیکرز کا سامنا کرنا پڑا ہےجبکہ ستمبر میں ہیکنگ کی وجہ سے50 ملین صارفین کے اکاؤنٹ متاثر ہوئے تھے۔