ڈالر معیشت کنٹرول کرنے کے لئے آخری آپشن


پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدے کے بعد یہ بات واضح طور پر سامنے آئی کے ڈالر آپ مارکیٹ کے ٹریڈ کرے گا اور روپے کی قدر کو مارکیٹ کے ساتھ جوڑا جائے گا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ریٹ جو پہلے اسٹیٹ بینک کنٹرول کرتی تھیں اب اس کے ہاتھ سے نکل گئی اور مارکیٹ کی طرف چلی گئی جس کی وجہ سے دو دن کے اندر ڈالر چھ سات روپے مہنگا ہوا اور اس وقت ڈالر ریٹ150 روپیہ پر چل رہا ہے اور یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر ڈالر کو کنٹرول نہ کیا گیا تو بہت جلد 200روپے ہو جائے گا اس کا نتیجہ براستہ مارے پر پڑتا ہے کیونکہ پاکستان میں برآمدات کی بجائے درآمدات زیادہ ہے اور یہ تمام درآمدات ڈالر کے بدلے میں کی جاتی ہے ڈالر جیسے مہنگا ہوگا اس کی وجہ سے ان اشیاء کی قیمت بھی زیادہ ہوتی جائے گی اور اس کا اثر عام آدمی پر پڑے گا جس کی آمدن میں کوئی اضافہ نہیں ہوا

لیکن دوسری طرف اشیاء خوردونوش میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ڈالر کے اس بڑھوتری کی ایک دوسری وجہ بھی ہے اور وہ مارکیٹ میں بیٹھے وہ تاجر لوگ ہیں کہ جو ڈالر اس نیت سے خریدتے ہیں کہ مہنگا ہوگا تو اس کو بیچ کر کچھ کمایا جاسکے اس وقت مارکیٹ میں ڈالر کی دھڑادھڑ خرید ہورہی ہے اور بہت کم لوگ ایسے ہیں کہ جو اس کو بیچنے کے لئے تیار ہے اس کی وجہ بالکل واضح ہے کہ ڈالر جب مارکیٹ میں کم ہوگا تو اس کی وجہ سے خود بخود اس کی قدر بڑھ جائے گی اور قدر بڑھنے سے جب ڈالر واپس مارکیٹ میں آئے گا تو ارب روپے کمائے جا چکے ہوں گے ایک طرف مہنگائی ہے کہ جو غریب آدمی کو پیس رہی ہے اور تبدیلی کا خواب چکنا چور دکھائی دے رہا ہے تو دوسری طرف ڈالر کی چلا گے جس حکومت کوبدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی مزید تفصیلات جاننے کے لیے ویڈیو ملاحظہ کیجئے