پرویز مشرف نئی بیماری میں مبتلا ہو گئے


سابق صدر پرویز مشرف AMYLOIDSIS کے عارضے میں مبتلا ہیں اوردبئی اسپتال میں بستر علالت پر مرض سے نبردآزما ہیں۔پرویز مشرف کے قریبی رفقا کا کہنا ہے کہ یہ مرض انھیں 6 ماہ قبل لاحق ہواتھا، طبی ٹٰیسٹوں میں مرض کی تشخیص کی گئی ہے جس کا علاج پاکستان میں موجود نہیں، اس لیے وہ دبئی میں زیر علاج ہیں۔ اس بیماری میں ملازمت سلسلے جو پر کی نکلتے ہیں اس کی وجہ سے دل گردے جگر اور اس طرح معدے پر بھی اس کے انتہائی سخت اثر پڑتا ہے نسانی جسم میں پلازمہ سیل ہڈیوں کے اندر ہوتے ہیں جن کاکام جسم میں اینٹی باڈیز بنانا ہوتا ہے لیکن اس مرض میں پلازمہ سیل اینٹی باڈیز بنانے کی بجائے غیر فعال اور نقصان دہ AMYLOID پروٹین بنانا شروع کردیتے ہیں جس کے نتیجے میں AMYLOIDSIS نامی مرض لاحق ہوجاتا ہے،

اس مرض کی تشخیص خون کے ٹیسٹ immunofixationسے کی جاتی ہے۔اس بیماری کی وجہ سے دل گردہ جگر آہستہ آہستہ اپنا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور انسان کے اعضاء بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں ڈاکٹر طاہر شمسی جو کہ ماہر امراض خون ہے ان کے مطابق یہ بیماری علاج کی وجہ سے روک تو جاتی ہے لیکن یہ دوبارہ حملہ آور ہوتی ہے اور زیادہ تر ستر سال کے بعد ہوتی ہے یہ بیماری موروثی بھی نہیں ہے اور نہ ہی یہ دوسروں کو لگ سکتی ہے جنرل پرویز مشرف کو لگنے والی بیماری انتہائی مہلک ہے اور اس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہو سکتی ہے