طالبان کے بانی ملا عمر نے امریکی فوج کو بھی ماموں بنادیا!!


ملا عمر استعمال امریکی جبر و تشدد کے خلاف اٹھنے والی مزاحمت کے طور پر جانا جاتا ہے امریکا نظر 50 سے زائد ممالک کے ساتھ مل کر افغانستان پر حملہ کیا تو اس وقت سب لوگ یہی سمجھتے رہے کہ اب طالبان کا خاتمہ ہوجائے گا اور ملا عمر کی قائم کردہ حکومت ختم ہوجائے گی لیکن 18 سال گزرنے کے بعد طالبان اب بھی قائم و دائم ہے اور افغانستان کی اکثریت علاقے پر ان کی حکومت ہے . امریکہ کے اکثر لوگوں کا یہی ماننا تھا کہ ملا عمر کو پاکستان نے پناہ دی ہے اور وہ پاکستان میں چھپے ہوئے ہیں حالانکہ ملا عمر امریکا حملے کے بعد کرنے کے بجائے امریکن کے قریب ہی رہائش اختیار کرلی امریکن فوجی کیپمپ کا فاصلہ صرف چند کلو میٹر تھا ملاعمر کی وفات 2013 میں ہوئی اور طالبان نے اس بات کو خفیہ رکھا حتی کے 2017 کا سال آیا اور طالبان نے دنیا کے سامنے یہ باور کرایا کہ ملا عمر کو فوت ہوئے کئی سال ہو چکے ہیں


یہ دعویٰ امریکہ کے ایک صحافی نے کیا ہے جن کا نام بیٹے ڈیم ہے انہوں نے حال ہی میں ایک کتاب شائع کی ہے جس کا نامTHE SECRET LIFE OF MULLA UMAR ہے اس کتاب میں انہوں نے کی طالبان رہنماؤں کا انٹرویو کیا انہوں نے ملا عمر کے باڈی گارڈ جبار عمری سے بھی ملاقات کی اور ان کا انٹرویو لیا اس کتاب کے مطابق جنگ شروع ہو جانے کے بعد ملا عمر کو امریکی اڈے کے قریب خفیہ کمروں میں پناہ دی گئی تھی۔ ملا عمر کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر مقرر کی تھی۔اس کے بعد انھوں ایک دوسرے مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا جہاں سے صرف تین میل کے فاصلے پر ایک اور امریکی اڈہ تھا جہاں 1000 فوجیوں کا قیام تھا۔صحافی بیٹے ڈیم کہ مطابق انھیں بتایا گیا کہ ملا عمر خبروں کے حصول کے لیے بی بی سی کی پشتو سروس کا استعمال کیا کرتے تھے۔ ملا عمر نے انیس سو چورانوے میں تحریک طالبان افغانستان کی بنیاد رکھی اور صرف دو سال میں پورے افغانستان کو فتح کر ڈالا 996 میں انہوں نے حکومت بنائی جو کہ 2001 تو چلتی رہی امریکہ کے حملے کے بعد انکا افغانستان پر مکمل کنٹرول تو نہ رہا حکومت ختم ہو گئی لیکن ملا عمر نے جاتے ہوئے اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک سبق ضرور چھوڑا اور اصول یہ تھا کہ مسلمان اگر اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں اور اس کا مقصد خالص ہو تو پھر پوری دنیا مل کر بھی اس کو ہرا نہیں سکتی وقت اور اس کو پسپائی ہو سکتی ہے لیکن یہ مستقل نہیں ہوگی اور اللہ کی مدد سے وہ دوبارہ عروج پر آئے گا