مودی الیکشن جیتا تو آخری معرکہ شروع


بھارت میں اس وقت الیکشن قریب ہے اور موجودہ حکومتی پارٹی بی جے پی ایک ہندو انتہاپسند تنظیم کہلاتی ہے انہوں نے جب بھی الیکشن میں جیتنے کی کوشش کی تو پاکستان کیخلاف ایک فضا قائم کی اور اس کے بعد لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹ کر ووٹ جیتے جب کہ اس کے مقابلے میں کانگریس معتدل رویہ رکھنے والی جماعت ہے یاد رہے انڈیا میں سینکڑوں مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں جس میں ہندو مسلمان عیسائی سکھ سرفہرست ہے ہندو کی تعداد سب سے زیادہ ہے لیکن دوسروں کی موجودگی کی وجہ سے ان کے بڑوں نے انڈیا کو ایک غیر مذہبی ملک قرار دے کر اس کو سیکولر کا درجہ دیا تھا تاکہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو یہ احساس نہ ہو کہ ہندو کثرت میں ہونے کی وجہ سے ان کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں اور ان کے حقوق ان کو ادا نہیں کیے جا رہے لیکن ان دعوؤں کے باوجود حقیقت یہی ہے کہ ملک میں ہندو راج ہے اور ہندو انتہاپسند انتہائی آسانی کے ساتھ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے کو جان سے مارنے ان کے املاک کو نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کرتے

اور دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت بھی ان کی مکمل سرپرستی کرتی ہے موجودہ حالات میں بھارتی جنتا پارٹی کی کوشش ہے کہ کسی طرح سے ملک کے اندر اکثریت حاصل کریں اور 300 سے زائد سٹی جیت جائے اس کی وجہ سے ان کو قانون سازی میں آسانی ہوگی اور جب ان کو ایسی کامیابی ملی تو انہوں نے ملک کا سیکولر سٹیٹ کا درجہ ختم کردینا ہے اور اس کو ہندو قرار دیا ہے جس کے بعد جو کچھ ہو گا وہ انڈیا ہی کی تباہی کا سبب ہوگا کیونکہ پہلے ہی سے ریاست آسام مغربی بنگال پنجاب اور ایسے ہی دیگر علاقوں اندر ہنگامے ہو رہے ہیں اس لئے اگر بھارت نے کبھی بھی ان لوگوں کے ساتھ سختی کی دوبارۃ کو ٹوٹنے سے کوئی بھی نہیں بچاسکے گا مزید تفصیلات جاننے کے لیے ویڈیو ملاحظہ کریں