مریم نواز اقرار کے مقابلے میں


گزشتہ دن سوشل میڈیا پر خاص کر ٹوئٹر پر سب سے ٹاپ ٹرینڈ چوتھی جماعت کا رہا ہے دراصل اقرارالحسن نے سرعام ایک لمبی چھوڑیں انھوں نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ میں زیادہ دعوت و نہیں کرتا لیکن جب میں چوتھی جماعت میں تھا تو میں نے روح البیان تفسیر کبیر تفسیرالبیضاوی اور اس طرح کی دوسری تفسیر پڑھ رکھی جس کے بعد لوگوں نے ان کا خوب مذاق اڑایا کیونکہ یہ ایسی تفاسیر جن کا نام اقرارالحسن نے لکھا ہے شاید ان کو اس کا صحیح جگہ بناتا ہوں پڑھنا تو دور کی بات اور اس کو سمجھنا تو بہت ہی بری بات ہے کیونکہ یہ تمام تفاسیر منطقی انداز میں لکھی گئی ہے اور اس میں جب تک بین السطور الحواشی کو نہ سمجھا جائے تب تک نفس مضمون سمجھ نہیں آتا خاص کر تفسیر بیضاوی اور تفسیر ابن کثیر اور تفسیر کبیر جو کہ انتہائی اعلی پائے کی تفاسیر ہے اور آٹھ سال ایک عالم پڑتا ہے

تب جا کر اس کو ان تفاسیر کی سمجھ آتی ہے تو پھر ایک ایسا بچہ جس کی عمر دس سال ہو اور وہ چوتھی جماعت میں پڑھتا ہوں اور پھر اس نے ان تفاسیر کو پر رکھا ہو اور اس کا مطالعہ کیا ہو یقینا جھوٹ کے سوا اور مبالغہ آرائی کے سوا کچھ بھی نہیں اگر صرف ان کے تراجم کو دیکھاجائے کیونکہ تمام کتابیں عربی میں ہیں اگر ان کے ترجموں کو دیکھا جائے تو تقریبا 35 ہزار سے زائد صفحات بنتے ہیں اگر ایک بچہ روزانہ اس کو مکمل کرنے کے لئے اس کو کم سے کم دس سال کی عمر چاہئے گویا کہ اقرارالحسن یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جب میں پیدا ہوا تو میں نے ان کتابوں کا مطالعہ شروع کیا اور پھر میں نے دس سال کی عمر میں جب میں چوتھی جماعت میں تھا میں نے ان سب کا مطالعہ کر لیا لیکن کچھ لوگ پھر بھی ان کی دفاع میں بات کر رہے ہیں یقین نہیں آتا تو ویڈیو ملاحظہ فرمائیں سمجھا جائے گی کی مخالفت میں جانے کے بعد کیسی کیسے بلڈرز کو ڈیفنڈ کرنا پڑتا ہے ویڈیو ملاحظہ فرمائیں

You cannot copy content of this page