حج مہنگا ہو یا حج سہی ہوا ؟


اس وقت ملک کے اندر جو بحث چل رہی ہے وہ اس بات پر ہے کہ حکومت نے حال ہی میں حج کی قیمتیں بڑھا دی ہے اور پہلے جو حج ڈائیلاگ روپے میں ہوتا تھا اب حکومت نے اس پر ٹیکس وغیرہ لگاکر سبسڈی ختم کرنے کے بعد ساڑھے چار روپے کا کردیا ہے اب اس پر دونوں جانب کی رائے آرہی ہے ایک جانب سے یہ کہنا ہے کہ حکومت جہاں مختلف اداروں کو جیسے اینگرو ہو گیا اس کے ساتھ دوسرے ادارے اور خاصکر سینیما بزنس کو بڑھانے کے لئے اربوں روپے کی سبسڈی دے رہا ہے تو پھر حج پر سبسڈی دی کیوں نہیں دی جا رہی جس کے ساتھ ان گروہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ حکومت اگر سب سے بھی ختم کرنا بھی چاہتی ہے تب بھی حج زیادہ سے زیادہ ساڑھے تین لاکھ روپے کا پڑتا ہے اسی زیادہ کا نہیں ہوتا اور اگر اس کی پرائیویٹائزیشن کی جائے تو اس کی وجہ سے حج زیادہ آسان ہو سکتا ہے کیونکہ کمپیٹیشن کی وجہ سے پھر لوگ اپنے ریٹ کم رکھیں گے اور اس کے ساتھ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر سب سے جلدی ختم کرنی ہی تھی تو پھر عبادات سے کیوں ختم کی گئی کیونکہ حکومت کی یہ ہمیشہ سے کوشش آتی رہی ہے اور خاص کر اسلامی ممالک یہ کوشش ہوتی ہے کہ ایسے لوگ جو حج کی استطاعت نہیں رکھتے

ان کے لئے بھی حج کو آسان بنایا جائے جبکہ دوسری طرف ایسے لوگ جو حکومت کی سائیڈ پر ہے اور حکومت کے اپنے نمائندے بھی کہتے ہیں کہ حج صاحب استطاعت پر فرض ہے کہ جس کے پاس استعداد ہے وہ حج کرے جس کے پاس نہیں ہے وہ حج اس پر فرض ہی نہیں ہے اور دوسرے انہوں نے یہ کہا کہ ہم اس پر بہت زیادہ سبسڈی دے رہے تھے جس کی وجہ سے حکومت کو مسلسل خسارے کا سامنا تھا اور یہ سب سے بھی دراصل دی جارہی تھیں ان پیسوں سے جو کہ ہم کس کے طور پر لیتے ہیں اور پھر واپس کرتے ہیں ہیں دونوں جانب کی رائے کو اگر دیکھا جائے تو ان دونوں اپنی جگہ پر اہم ہے حکومت کو چاہیے کے بیچ کا راستہ اختیار کریں کہ اگر ایسے شخص جو صاحب استعداد نہیں ہے لیکن وہ پوری زندگی روپے جمع کرکے حج کے لیے جانا چاہتا ہے تو اس کے لئے حج کو آسان بنائیں مزید تفصیلات کے لیے ویڈیو ملاحظہ فرمائیں

You cannot copy content of this page