میڈیکل مافیا کا بھیانک سچ بے نقاب


پاکستان کا تعلق دنیا کے ان ممالک سے کی جو اپنے فوجی ہتھیاروں میں ایٹمی ہتھیار بھی رکھتا ہے لیکن اس کے باوجود اس ملک کا شمار باقی انڈیکس کے لحاظ سے سب سے نیچے ہے اگر طبی لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان اس وقت 198 نمبر پر ہے گویا کہ دنیا کے ایک سو ستاون ممالک میڈیکل کے لحاظ سے پاکستان سے کئی گنا آگے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک میں ناجائز کمائی حرام خوری اور کرپشن کے حکومتی سرپرستی حاصل ہوتی ہے اور حکومتی سطح پر ہیں یہ سارے کام کیے جاتے ہیں اس وجہ سے اس کے اثرات میں سے بھی دکھائی دیتے ہیں پاکستان میں جہاں ایک ڈاکٹر سرکاری جاب کرتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اپنا کلینک بھی کرتا ہے حالانکہ یہ بالکل ہی ایک غیر اخلاقی حرکت ہے اور پوری دنیا میں اس طرح کا کام نہیں کرنے دیا جاتا کہ ڈاکٹر دو دو جگہوں پر کام کریں کیونکہ اس کی وجہ سے اس کے معیار پر بہت زیادہ اثر پڑتا ہے پاکستان میں ڈاکٹروں نے کمائی کا بہترین طریقہ بنایا ہوا ہے وہ ادویات والی کمپنیاں ہے کہ جو مختلف مراعات پر ڈاکٹروں کو ادویات بیچنے پر مجبور کرتی ہے بلکہ ڈاکٹر خود ہی ایسے لوگوں کی تلاش میں ہوتے ہیں کہ جو ان کے پاس آئے اور ڈاکٹر ان کی دوائیاں بیچے اور اس کے بعد اس کے بدلے میں ڈاکٹروں کو اچھی آمدن حاصل ہو


اس کے ساتھ ڈاکٹر نے مختلف لیبارٹریز کے ساتھ یہ معاہدہ کیا ہوتا ہے کہ ان کی طرف سے جو مریض آئے گا تو اس سے بھی کمیشن حاصل کیا جائے گا ڈاکٹرز غیر ضروری ٹیسٹ مریض کو دیتے ہیں مریض ٹیسٹ مخصوص لبوں سے کراتے ہیں جس میں ان ڈاکٹرز کا اس کلینک کا اپنا ایک حصہ ہوتا ہے اس کے ساتھ ڈاکٹرز مختلف ٹیسٹ کے نام سے مریضوں سے پیسے بٹورتے ہیں جن کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہوتی
ایسے ہی مقامی کلینکس کے آس پاس جتنی بھی دوائیاں بیچنے والے دکاندار ہوتے ہیں ان کے ساتھ بھی ڈاکٹرز کے رابطے ہوتے ہیں اور ڈاکٹر ان کو ایسی ادویات لکھ کر دیتے ہیں کہ جو مقامی دوائیاں بیچنے والے دکانداروں کے پاس موجود ہوتی ہے اس کے بعد اس کو اگر آپ پورے پاکستان میں ڈھونڈے تو وہ دوائی نہیں ملتی اس کی وجہ یہ ہے کہ اس پر اچھی خاصی کمیشن موجود ہوتی ہے جو کہ ڈاکٹرز کو حاصل ہوتی ہے پاکستان میں سب سے پہلے تو یہ پابندی لگا دینی چاہیے کہ ڈاکٹر ادویات تجویز نہیں کریں گے بلکہ وہ صرف تشخیص کریں گے ادویات تجویز کرنا کا کام صرف اور صرف کیمسٹ کا ہونا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ ادویات کے بنانے کا سارا کام حکومت کی نگرانی میں ہونا چاہیے

You cannot copy content of this page