بیرونی طاقتوں کا عمران خان پر شدید پریشر


گزشتہ دنوں البانیہ کی یونیورسٹی نے ایک تحقیق پیش کی یہ تحقیق ایک خاتون کی تھی جو اس موضوع پر تھے کہ ہم جنس پرستی کیوں بنتی جارہی ہے اور اس کا کہنا تھا کہ دراصل جو خوراک ہم کھاتے ہیں اور جس طرح کی خوراک میں استعمال کرائی جاتی ہے اس کی وجہ سے انسانوں کے اندر ہم جنس ہم جنس پرستی کا رجحان بہت زیادہ بڑھتا جا رہا ہے اس کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ بیٹھا اور موٹاپا زیادہ ہو جائے تو اس کی وجہ سے بھی اس طرف رجحان بڑھتا جاتا ہے کہ انسان کے اندر ایسے جراثیم پیدا ہوجاتے ہیں اور ایسے ہارمون پیدا ہوتے ہیں کہ جو ہم جنس پرستی کا رجحان پیدا کرتے ہیں اس کے ساتھ جو انجیوز ہے وہ کوشش کرتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو زیادہ سپورٹ کی جائے گی جو اس طرح کی حرکت کرتے ہیں حال ہی میں پاکستان نے تقریبا 18 سے زائد ایسے ان جی اوز کو ملک سے بے دخل کیا جو اس طرح کی حرکات میں ملوث تھے اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں جاسوسی کے کھڑا نہیں پھیلا چکے تھے حال ہی میں یورپی یونین کی طرف سے ایک ڈیلی گیشن آیا جس میں پاکستان کی حکومت سے درخواست کی گئی

کہ وہ اس بات پر اپنے یورپی یونین کو راضی کریں گے کہ پاکستان کو یورپی یونین کے منڈیوں تک رسائی دی لیکن اس کے لیے شرط یار کی گئی ہے کہ جو قوانین خاص کر ہم جنس پرستی کے بارے میں ہے اس پر نرمی کی جائے اور اس کے ساتھ سزائے موت کو ختم کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ دیکھا جائے کہ جو عالمی سطح پر کام کرنے والے انجیوز ہے جن کو پاکستان نے باہر نکالا ہے ان کو واپس پاکستان میں آنے دیا جائے سایہ ایک پلاننگ کے تحت سب کچھ کیا جا رہا ہے اور ان کی کوشش ہے کہ پاکستان کو دوبارہ دہشت گردی کا مرکز بنا دیا جائے اور یہاں کے عوام کے عقائد کو جو پاکستان کی بنیاد پر بنا ہے اس کو کمزور کرنے کی کوشش کی جائ یہ لوگ کیسے پاکستان میں ہم جنس پرستوں کو فروغ دے رہے ہیں اور کن ناموں کے ساتھ دے رہے ہیں اس اس کو جانے جاننے کے لیے ویڈیو فرمائے

You cannot copy content of this page