شاباش میڈیا کے احتساب کا فیصلہ ہو گیا


پاکستان کا میڈیا اس وقت تھا جس دور سے گزر رہا ہے اس کو آپ کیسے دیتے ہیں کہ یہ ابھی ابتدائی طور ہیں اس کے اندر پاکستان کی میڈیا میں بہت ساری تبدیلیاں رونما ہوں گی اگر اس کو کنٹرول نہ کیا گیا تو مکن ہے کہ مستقبل میں پاکستان کے میڈیا سب سے خطرناک چیز بن جائیں اور کسی بھی حکومت کو بڑی آسانی کے ساتھ گرانے میں اور دباؤ میں رکھنے کے لئے اس کے لئے سب سے آسان کام بن جائے
موجودہ حکومت جو کہ میڈیا ہی کے استعمال کے بعد برسراقتدار آئی ہے انہوں نے حکومت میں آنے کے بعد میڈیا کے خلاف ایک جنگ شروع کردی ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کو غیرضروری اشتہارات نہیں دیے جائیں گے اور جو ریٹا بھی طے کیا گیا ہے وہ بھی نہیں دیا جائے گا جس کے بعد حقیقت میں ہی ایسا ہوا اور میڈیا کو اشتہارات دینا بند ہو گئے اس کے ساتھ ساتھ میڈیا پر دباؤ بھی بڑھایا جانے لگا اور اس کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کیا گیا اس وقت بلامبالغہ حکومت کی زیر سرپرستی سینکڑوں سوشل میڈیا ٹیم کام کر رہی ہے جو دن رات پروپیگنڈے میں مصروف ہے اور اس کے ساتھ ساتھ حکومت کے ہر ناجائز کام کو جائز قرار دینے کے لئے یہ لوگ کام کر رہے ہیں

عمران خان کی حکومت کا سب سے بہترین اقدام یہ ہے کہ انہوں نے ایک ایسا سیل بنانے کا اعلان کیا ہے کہ جو الیکٹرانک میڈیا پرنٹ میڈیا سوشل میڈیا اور دوسرے جتنے بھی مسائل ہیں ان کو کنٹرول کریں گے اور ان کے لئے ایک باقاعدہ طور پر منظم قوانین ہوں گے جس کے بعد کوئی بھی شخص ایسی بات نہیں کہہ سکے گا جو کہ ملکی مفاد میں نہ ہو یہ ایک بہترین اقدام ہے اور ہونا بھی چاہیے کیونکہ اس وقت ہمارا میڈیا ملک میں صرف منفی چیزوں کو اجاگر کرتا ہے اور مثبت چیزیں بالکل بھی نہیں دکھاتا اس لئے اگر اس قانون پر عمل درآمد کیا جائے تو ملک میں کافی بہتری دیکھنے کو ملے گی لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ اس قانون کا استعمال کس طریقے سے ہو ایسا نہ ہو کہ جو حکومت کے غلط کاموں کی نشاندہی کرے اس کو بھی بند کر دیا جائے جیسے کہ نیب کا ادارہ کام کررہا ہے کہ جو بنایا تو اس لیے گیا تھا کہ کرپشن کو کم کیا جاسکے لیکن ہمیشہ اس کا استعمال صرف اور صرف سیاستدانوں کے خلاف کیا گیا

You cannot copy content of this page