اسد عمر اسمبلی میں شہباز شریف کی چھترول کرتے ہوئے


پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے وزیر خزانہ اسد عمر نے گزشتہ دن قومی اسمبلی کے اندر ایک بجٹ پیش کیا ہے یاد رہے کہ یہ حکومت کا اس سال کے اندر دوسرا بجٹ میں ہے جو وہ پیش کر رہے ہیں اور اسے بات بالکل واضح ہوتی جا رہی ہیں کہ حکومت معاشی حالات کو سدھارنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اس وجہ سے حکومت کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے مختلف ٹیکس نئے نئے لگائے جا رہے ہیں
اس سے بجٹ کے اندر چھوٹے انڈسٹریز کو ٹیکس کی کٹوتی کا سامنا ہوگا اور ٹیکس کی مد میں ان کو 20% ٹیکس دینا پڑے گا ایسے ہی زرعی ٹیکس میں 20 فیصد کمی کی گئی اس کے ساتھ ساتھ کم آمدن والے گھرانوں کو یوں پر بھی ٹیکس کی مد میں کمی کی گئی ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ کہا گیا ہے کہ جو لوگ ٹیکسٹ فائل نہیں رکھتے وہ چھوٹے اور درمیانے سے اس کی کڑیاں خرید سکیں گے جس کی زیادہ سے زیادہ حد 13 سو سی سی ہو گئی اس سے زیادہ بڑی گاڑی خریدی کے لئے ضروری ہوگا

کہ متعلقہ شخص کے پاس ٹیکس جمع کرانے کی فائل موجود ہو اٹھارہ سو سی سی انجن والی گاڑیوں پر ٹیکس زیادہ کردیا گیا ہے اس کے ساتھ ایسے شخص جس کے پاس ٹیکسٹ فائل نہ ہو وہ پچاس لاکھ روپے تک گر خرید سکے گاایسے ہی شادی ہالوں پر ٹیکس لگایا گیا تھا وہ بیس ہزار سے پانچ ہزار روپے کر دیا گیا ہے لیکن یہ صرف چھوٹے شادی ہالوں کے لئے ہے کہ جن کا رقبہ 500 سکیر فٹ ہواس کے ساتھ حکومت نے موبائل کارڈ پر 30 فیصد ٹیکس لگا دیا ہے یعنی کہ آپ سو روپے کے کارڈ پر ستر روپے بیلنس ملے گا اس کے ساتھ ساتھ اس سے منی بجٹ کے اندر بہت زیادہ ٹیکس بھی عائد کردی گئی ہیں اور مختلف ریفارم پالیسی بھی پیش کی گئی ہے تفصیلات کو جاننے کے لیے ملاحظہ فرمائیں

https://www.youtube.com/watch?v=FlZCp08a0PI