ٹرمپ کے دماغ پر پاکستان سوار ہو گیا


گزشتہ دنوں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک واقعہ سامنے آیا ہے اور اس کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے اور بہت تیزی کے ساتھ ظاہر ہوتی جا رہی ہے دراصل انہوں نے امریکہ اور میکسیکو بارڈر کی طرف اپنا سفر کیا تاکہ وہاں کے حالات کو جانا جا سکے وہاں موجود ایک افسران کو تفصیل بتا رہے تھے کہ کتنے غیر قانونی لوگ اس وقت تک بارڈر کراس کرتے ہوئے پکڑے جا چکے ہیں تو انہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ تقریبا ڈیڑھ سو کے قریب لوگ ہیں جو کہ غیر قانونی طور پر باڈر کا شکار رہے تھے اس پر انہوں نے پوچھا کہ کون کون سے ممالک کے لوگ تھے تو افسر نے کہا کہ اس میں انڈیا رومانیہ اور دیگر ممالک کے لوگ شامل تھے اس میں بھارت کے لوگ بھی تھے تو ڈونلڈ ٹرمپ نے بجائے اس کے کہ بھارت کے لوگوں کے بارے میں بات کرتا اس نے سیدھا پوچھ لیا کہ پاکستانی کتنے تھے

یعنی پاکستان کے کتنے لوگ ایسے تھے کہ جو بارڈر کراس کرتے ہوئے پکڑے گئے تو افسر نے کہا کہ صرف دو لوگ تھے اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اس وقت پاکستان امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دماغ میں گھوم رہا ہے ہر وقت وہ پاکستان کے بارے میں بات کرتے ہیں اور اگر ٹویٹ کریں تو دوسری یا تیسری ٹویٹ ضرور پاکستان کے بارے میں ہوتی ہے اور یہ کہتے ہیں کہ ہم نے پاکستان کو بےتحاشہ سرمایا دیا بے تحاشہ رقم دی لیکن پاکستان نےکبھی بھی ہماری مدد نہیں کی بلکہ ہمیشہ ایسے لوگوں کی مدد کی جو کہ دنیا کے امن کے لئے انتہائی مضر ہے