پاکستان میں طلاقوں کی شرح کیوں بڑھ رہی ہے ؟


پہلے زمانوں میں فلم انڈسٹری میں جس اداکارہ خاتون کی شادی ہوجاتی تھی تو اسے سمجھا جاتا تھا کہ اس کا فلمی کیریئر ختم ہوچکا ہے کیونکہ اس کے بعد اس کو کام نہیں ملتا تھا اور نہ ہی ناظرین کو فلم بین اس کے فلموں کو دیکھنا پسند کرتے تھے لیکن ایک دور اب ایسا آ گیا ہے کہ ایسی خواتین کی جو شادی شدہ ہے بڑی عمر کی ہے اور ان کے بچے بھی ہیں لیکن پھر بھی ان کو بڑے ہی مضبوط قسم کے پلیٹ فارم پر کام بھی ملتا ہے اور ان کو پسند بھی کیا جاتا ہے دراصل فلم انڈسٹری میں ایک ایسا دور آ چکا ہے کہ جو غیر ملکی ایجنسیز کے نظریات کو الومناٹی کے نظریات کو نوجوان میں پھیلانے کے لیے بہت تیزی سے کام کر رہے ہیں پہلے ایسا ہوتا تھا کہ چوری چھپے مختلف طریقوں سے ان کے نظریات کو پھیلانے کی کوشش کی جاتی تھی لیکن جب سے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا دور آیا تو اب پوری تیزرفتاری کے ساتھ یہ لوگ کام کر رہے ہیں اب یہ لوگ ایسی خواتین کو جو کی شادی شدہ ہوتی ہیں ان کو پروگرام بھی دیتے ہیں

ان کو فلموں میں بلاتے ہیں ان کو ڈرامے بھی کرواتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں یہ ٹرینڈ جاری کروا دیا جائے کہ ان فلموں میں کام کرنا میڈیا میں کام کرنا کوئی بری بات نہیں ہے حالانکہ اچھے گھرانے کے لوگ اس کو ایک طرح سے ایک کنجرخانہ سے سمجھتے ہیں اور اس میں کام کرنے والے لوگوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا لیکن اب ان کی کوشش ہے کہ ایسی خواتین کو آگے لایا جائے جو شادی شدہ ہے تاکہ لوگوں کے ذہن سے یہ خیال نکل جائے کہ پاکستان جیسے ملک میں اگر کوئی خاتون کام کر رہی ہے اور اس کے بچے بھی ہیں تو اس کا مطلب کہیں کوئی برا کام نہیں ہے اور لوگوں کے ذہن سے اس کا یہ تاثر زائل ہوجائے تو اب آپ کو ایسے ہی نظر آئے گا کہ ایسی خواتین بھی ہوگی کہ جو بچے پیدا کر چکی ہے اور انکو کام مل رہا ہے اس کی بہت ساری مثالیں ہمارے سامنے حیا پاکستانی ڈراموں کو اٹھا کے دیکھ لے آ پاکستانی خواتین کو دیکھ لیں جو فلموں میں کام کرتی ہے شادی شدہ ہے لیکن اس کے باوجود انکو کام مل رہا ہے