وزیر اعلیٰ سند ھ بھی کچھ دن کے مہمان رہ گئے


عمران خان کے خصوصی معاون افتخار درانی کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی میں دراصل یہ سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جوائنٹ اکاؤنٹ کیسے بنے سمٹ بینک نے بغیر سیکیورٹی جمع کرائے اسٹیٹ بینک نے اس کو کیسے اجازت دے دی اور سندھ کے وزیراعلی نے کیسے اس سکیورٹی کو دیکھے بغیر اور اسی کورٹ کو جمع کرائیں بغیر کیسے ان کی معاونت کی اس کے ساتھ ملک ریاض کو 11 ہزار ایکڑ کراچی میں زمین اگر دی گئی ہے تو آپ کس بنیاد پر دی گئی ہے یہ تمام سوالات جوابات اور ثبوتوں کے ساتھ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے اور اس کے بعد سپریم کورٹ نے دونوں جانب سے تعلق رکھنے والے افراد کو بلایا ہے اور یہ کیس 31 دسمبر کو سپریم کورٹ میں سنا جائے گا

اس کے بعد وہ سب کے سامنے ہے یاد رہی اس وقت ملک ریاض آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نیب کے ریڈار پر ہے اور انکے خلاف کرپشن منی لانڈرنگ اختیارات سے تجاوزات جیسے ریفرنس دائر ہونے جا رہے ہیں اور یہ کہا جا رہا ہے کہ ان کے نام بھی ای سی ایل میں ڈال دیا گیا نہ ہو سکے ایک صحافی کے سوال سوال کیا کہ کیا پاکستان تحریک انصاف اس کوشش میں ہیں کہ سندھ میں بھی اپنی حکومت قائم کر سکے اور اس کے لئے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے تو جواب میں انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی برائی نہیں ہے کیونکہ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کو مطلوب ہیں اور وہ اپنے گروپ کو اور زرداری گروپ کو سہولیات دیتے رہے ہیں تو مناسب یہی ایک ایسا وزیراعلی کہ جو داغدار نہ ہو

https://www.youtube.com/watch?v=dl0w_alH-3s