اسے کہتے ہیں شادی


پاکستان جیسے معاشرے میں لوگوں کی شادی ایک ہی بار ہوتی ہے اس لیے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ایک ہی دفعہ کے موقع پر خوب دل کی بھڑاس نکالی جائے اور بیدارش خرچ کیا جائے خوب نمودونمائش کی جائے اس کے لیے لاکھوں روپے کے زیورات لاکھوں روپے کا فرنیچر بے داشتہ مہنگے ہوٹلوں میں کھانا اور خوب نمودا نمائش کی جاتی ہے تاکہ لوگوں کو اپنی دولت دکھائی جا سکے لیکن اس کی وجہ سے بہت ساری بچیاں ہیں سی ہے کہ جو جہیز کا پیسے نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں بیٹھی رہتی ہے اور ان کے بال سفید ہو جاتے ہیں اگر لڑکی پڑھی لکھی ہو تو پھر وہ اپنے لئے دوسری راہیں رونے کی کوشش کرتی ہے اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش کرتی ہے لیکن اس میں جو کچھ اس کے ساتھ ہوتا ہے ایک بیٹی کے بارے میں تصور بھی نہیں کرسکتا دعوے تو بہت زیادہ ہوتے ہیں تحریک چلی جس میں ایسے لوگوں کو شامل کیا جا رہا ہے جن کی شادی پر کروڑ روپے کا خرچ آیا اور وہ بھی کہتے ہیں جہیز نہ لے دراصل کسی جائز چیز کے بارے میں لوگوں کو اگر آپ تر غیب دینا چاہتے ہیں تو اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ خود کو کم کریں اگر آپ خود پندرہ دن کی شادی مناتے ہیں اور اس کے بعد اس کی خوب تشہیر بھی کرتے ہیں اور ایک ایک پروگرام پر لاکھوں روپے کا خرچ کرتے ہیں اور لوگوں کی حد ہے

کہ وہ ساتھ ہی شادی کرے تو لوگ آپ کی بات پر کان نہیں دھریں گے بلکہ ہنسیں گے شادی اسلام میں کسی بھی معاشرے میں سب سے مضبوط بنیاد والا کام ہوتا ہے جس سے معاشروں کے اندر میں تبدیلی دیکھنے میں آتی ہے اسلام نے صرف شادی کے بندھن کو دوچیزوں میں بند کردیا ہے 1 نکاح کا گواہ ہونا چاہیے دوسرا لڑکی کا مہر ہونا چاہیے اس کے ساتھ ہی وہ سارے ہندوؤں کی رسومات ہیں اور اسلام میں اس کا کوئی ثبوت نہیں حال ہی میں ایک فوٹوگرافر نے بہترین نمونہ بن کر دکھایا ہے اس نے صرف 25 ہزار روپے میں اپنی شادی کا ولیمہ بھی کرایا برات بھی لے کر آیا اور مہمانوں کو نپٹا کر گھر روانہ کردیا یہ شادی فوٹوگرافر رضوان پہلوان کی تھی جس کا معاشرے میں اگر کچھ تبدیلی لے کر آنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے ایک عمل لوگوں یہ کام کر کے دکھائے میرے والدین کی خواہش تھی کہ دھوم دھڑکے سے شادی کی جائے لیکن میں نے ان کو منع کر دیا اور بڑی مشکل سے ان کو راضی کر دیا اور بعد میں ان کو بہت بہتری سمجھایا بھی اور الحمدللہ وہ میری بات بن گئی ہے اور میں نے صرف چند ہزار روپے میں بڑے بہترین شادی کر کے دکھا دی

You cannot copy content of this page