پورا گائوں ایڈز میں مبتلا


حال ہی میں ایک انکشاف ہوا ہے کہ سرگودھا کا ایک پورا گاؤں ایڈز کی بیماری کا شکار ہوا ہے یہ بڑی عجیب اور تہلکہ خیز انکشاف ہے اور یہ اس بات کو بالکل واضح کرتا ہے کہ پاکستان اور عالمی تنظیموں کے برائے یاد رہے اس سے پہلے ضرب مومن اخبار ہوا کرتا تھا جس کے ایک کالم نگار مفتی ابو لبابہ شاہ منصور نامی شخص نے بہت ہی تہلکہ خیز کالم لکھا تھا جس میں انہوں نے یہ بتایا تھا کہ کیسے ایک منظم طریقے سے پاکستان میں ہیپاٹائٹس ایڈز اس جیسی دوسری لاعلاج اور خطرناک بیماری پھیلائی جا رہی ہے انہوں نے اپنے کالم میں یہ بات لکھی تھی مٹی پہ چلنے والے ایسے اشتہارات جس میں دوستی کی ترغیب دی جاتی ہے اور مختلف لڑکیوں کے نمبر بھی دیے جاتے ہیں دراصل یک منظم گروہ ہے اس میں انہوں نے ایک لڑکے کی کہانی بھی سنائی تھی ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ دراصل ایک عالمی ایجنڈے کو لے کر آگے چل رہے ہیں جس میں نوجوانوں کو ورغلانا پھر ان کو بیماری میں مبتلا کرنا اور اس کے بعد ان نوجوانوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے اس میں انہوں نے بتایا تھا کہ کہ اس لڑکے نے ٹی وی پر چلنے والے اشتہارات دیے گئے نمبر پر رابطہ کیا تو اس کا رابطہ ہے کہ لڑکی سے کرایا گیا باتوں سے بات نکلتی گئی اور وہ دونوں آپس میں مل گئے اور پھر ان کی آج بھی قائم ہو گئے جس کے بعد اس لڑکے کو کچھ عرصہ بعد ایک عجیب بات کی گئی ہے اور اس کو بتایا گیا کہ وہ ایڈز کی مریضہ ہے اور اس لڑکی سے اس نوجوان کو بھی ایڈز ہوچکا ہے مزید تفصیل سے یہ بات سامنے آئی کہ صرف جنسی ہی کے ذریعے ایڈز نہیں پلایا جاتا بلکہ ہسپتالوں میں مختلف ادویات مختلف سرنج مختلف سرجری کے آلات بھی متاثر ہوتے ہیں اور ان کو جان بوجھ کر ہیپاٹائٹس اور ایڈز کے جراثیم لگا کر استعمال کرایا جاتا ہے میں نہایت ہی تہلکہ خیز انکشاف تھا لیکن اس پر حکومتی اداروں نے کسی قسم کی کارروائی نہیں کی اور آج سرگودھا کا ایک پورا گاؤں ایڈز کی بیماری کا شکار ہو چکا ہے یاد ہے عالمی تنظیموں کی کوشش ہے کہ آبادی کو کم از کم کیا جائے اور دنیا کی آبادی کو ایک ارب تک لایا جائے تاکہ کام کرنے والے بھی ہو لیکن دولت سمیٹی جا سکے

اور اس پر کنٹرول کیا جاسکے یاد رہے افریقہ کے وہ ممالک جو انتہائی غریب ہیں اور میں سے کچھ ممالک کو لیبارٹری کے طور پر استعمال کیا گیا اور نئے نئے بنائے گئے لیبارٹری میں جراثیم کا تجربہ ان لوگوں پر کیا گیا جس میں سے ایڈز کی بیماری سرفہرست ہے ماہرین کا کہنا ہے یہ جراثیم بنائے گئے ہیں ان کی ساخت قدرتی نہیں ہے ایسے ایبولا نہ میں جراثیم بھی لیبارٹری میں بنایا گیا اور اس کو افریقہ کے ممالک میں آزمایا گیا جراثیم کی کامیابی کے بعد ان کو مسلمان ممالک میں کافی بڑی مقدار میں اور کافی تیزی کے ساتھ آزمایا گیا ہے جس کے اثرات اب نمایاں طور پر نظرآ رہے ہیں اور اس کی سب سے بڑی مثال سرگودھا کا گاؤں ہے جس کا ہر شخص چاہے وہ بوڑھا ہے چاہے وہ عورت ہے چاہے وہ جوان ہے چاہے بچہ ہے اس بیماری کا شکار نظر آ رہا ہے اور ماہرین کہتے ہیں کہ اس کا پھیلاؤ جنسی بیماری ہر گز نہیں بلکہ یہ باقاعدہ پلاننگ کے تحت اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پھیلایا گیا ہے

You cannot copy content of this page