موت کے وقت کی عجیب و غریب کہانیاں 


بعض ایسے جرم بھی ہوتے ہیں کہ جن کی سزا موت ہوتی ہے موت دینے کی سزا کس طریقے سے دی جاتی ہے اس میں ہر ملک کا اپنا طریقہ کار ہوتا ہے کوئی سولی پہ لٹکا دیتا ہے کوئی گردن کاٹ دیتا ہے کوئی گولی مار دیتا ہے کوئی زہریلا انجکشن لگاتا ہے کوئی بجلی کے کرنٹ سے موت کی سزا دے ڈالتا ہے پاکستان میں سزائے موت کا طریقہ پھانسی ہے جس میں سزائے موت کے مجرم کو تختہ دار پر لٹکا دیا جاتا ہے اور اس کی جان لی جاتی ہے پاکستان میں اس کام کے لئے جس جلاد کو زیادہ تر کام لیا جاتا ہے اس کا نام تارا مسیح تھا یہ وہ شخص ہے کہ جس کے والد نے مشہور آزادی کے رہنما بھگت سنگھ کو پھانسی دی جبکہ دارامسیح نے خود پاکستان کے مشہور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی تھی اس وقت کی حکومت نے تارا مسیح کو پچیس روپے کا معاوضہ دیا تھا تارا مسیح کے موت کے بعد اس کے سالے لال مسیح نے یہ کام شروع کیا پھانسی کے عمل کے دوران چار لوگ وہاں موجود ہوتے ہیں جس میں سے پھانسی کی سزا سنانے والا جج ایس پی وکیل اور ایک ڈاکٹر موجود ہوتا ہے انیس سو پچاسی تک مجرم کے گھر والوں کو بھی آخری منظر دیکھنے کا اختیار دیا جاتا تھا لیکن اس کے بعد یہ اختیار ختم کر دیا گیا لالو سے کے مطابق جب مجرم کو پھانسی گھاٹ پر لایا جاتا ہے تو اس کے چہرے پر کالا کپڑا چڑھایا جاتا ہے

جس کے بعد وہاں پر انتہائی خاموشی ہو جاتی ہے ہٹا کے پولیس کا ایس پی بھی ہاتھ کے اشارے سے سزا دینے کا فیصلہ کرتا ہے جلاد کے فرائض میں سے یہ بھی ہے کہ پھانسی کا بندہ مجرم کے گلے میں لگائیں لال مسیح کے مطابق پھانسی دینے سے پہلے وہ سزائے موت پانے والے کے کام بھی ضرور کہتا ہے کہ مجھے تمہاری موت کی خواہش ہے اور نہ ہی اسکی کوئی خوشی ہے میں تو اپنا فرض ادا کررہا ہوں اس کے بعد وہ لیبر کی طرف چلا جاتا ہے اور ایس پی کی طرف دیکھتا ہے لال مسیح کے مطابق لیور کس نے کے بعد مجرم کو آدھا گھنٹہ تک لٹکایا جاتا ہے تاکہ اس بات کا یقین کیا جائے کہ وہ مرچکا ہے اس کے بعد اس اس کو اتارا جاتا ہے اور لاش کو اس کے گھر والوں کے حوالے کردیا جاتا ہے بلال مسیح کو اس پیشے میں پورے ملک کو دیکھنے کا موقع ملا ہے کیونکہ پاکستان میں صرف ایک ہی جلاد ہے اور وہ لال مسیح ہے کہا جاتا ہے کہ پھانسی کی مد میں اب تک جلا دوںکو چھ کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگی ہو چکی ہے