ایک شادی پر ظلم کی انتہاء


دوستو آج کی ویڈیو بہت حساس مسلئے پر ہے یہ بھی ہو سکتا ہے بہت سے دوستوں کو یہ ویڈیو پسند نہ آئے لیکن آج ہم سیاست سے ہٹ کر اس معاشرے کے اس آلمیے کے بارے میں بولنے جا رہے ہیں جس پر شادی شدہ خواتین تو شاید ہمیں ہر گز معاف نہیں کر یں گی جی ہاں دوستو ہم بات کر رہے ہیں دوسری شادی کے بارے میں ہمارے معاشرے میں دوسری شادی کو ایک گالی بنا دیا گیا ہے اس پر پروگرامز ہم اس دجالی میڈیا پر دیکھتے ہیں تو اکثریت ہمیں اس کیخلاف ہی بولتی نظر آتی ہے شاہد آفریدی نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ میرا دل کرتا ہے میں دوسری شادی کر لوں لیکن میری بیوی نہیں مانتی کیونکہ میں اپنی فیملی سے بھی بہت پیار کرتا ہوں دوستو اگر دیکھا جائے تو جو شخص دوسری شادی کرنے کو برداشت کر سکتا ہے اسے کرنی چاہیے شاہد آفریدی اگر کسی لڑکی کے بازو پر آٹو گراف دے تو یا کسی کی کمر پر آٹو گراف دے تو یہ معاشرہ اسے

تسلیم کر لے گا یہ معاشرہ بوائے فرینڈ گرل فرینڈ کے کلچر کو تو تسلیم کر سکتا ہے لیکن حلال طریقے سے دوسری شادی کو تسلیم نہیں کر سکتا اس دجالی میڈیا نے عام عوام کے ذہنوں میں ایک ایسا خناس بھر دیا ہے کہ دوسری شادی کا نام ایک گالی لگتا ہے ذاکر نائیک سے ایک مرتبہ کسی نے سوال کیا تھا کہ اسلام چار شادیوں کی اجازت دیتا ہے تو یہ کیا پہلی بیوی کیساتھ زیادتی نہیں اس پر ڈاکٹر ذاکر نائیک نے ایک بہت خوبصورت جواب دیا کہ دنیا میں اگر خواتین اور مردوں کی شرح نکالی جائے

تو شرح کے لحاظ سے خواتین کی تعداد مردوں سے کہیں زیادہ ہے اگر سب مرد ایک ایک شادی کریں گے تو جو باقی خواتین ہیں ان کا کیا بنے گا وہ پھر پبلک پراپرٹی بنیں گی یا پھر کنواری گھر بیٹھی رہیں گی اور ایک وقت آئے گا کہ شادی کی عمر نکل جائے گی دوستوویڈیو شروع سے آخر تک دیکھیں پسند آئے تو شیئیر کریں نہ پسند آئے تب بھی کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجئیے تنقید کریں یا تقلید کریں کھل کر کریں شکریہ ویڈیو ملاحظہ کریں

You cannot copy content of this page