الیکشن سے چند ہفتے پہلے آئی ایس آئی کے ایجنٹ نے کیا کرنے پر دباؤ ڈالا؟ برطرف جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سب بتا دیا


سپریم کورٹ میں دائر آئینی درخواست میں شوکت عزیز صدیقی نے موقف اپنایاکہ جوڈیشل کونسل نے آرٹیکل 10 اے کے تحت فئیر ٹرائل کا حق نہیں دیا اور درخواستگزار کو آئینی حق سے محروم رکھاگیا۔ درخواست گزار نے کہا ہے کہ اسے آئین کے آرٹیکل 4 اور 25 کے تحت قانونی اور مساوی حق نہیں ملا، سپریم جوڈیشل کونسل کو الزامات کی انکوائری کرنی چاہئے تھی۔درخواست گزار نے کہا ہے کہ تمام کارروائی کا مقصد مجھے اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بننے سے روکنا تھا۔

انہوں نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا کہ ” آئی ایس آئی کے ایک جنرل نے احتساب عدالت سے وزیراعظم میاں نوازشریف وغیرہ کو سزا اور اس کیخلاف آنیوالی اپیلوں کی ہائیکورٹ میں سماعت سے متعلق طریقہ کار پوچھا، درخواست گزار(میرے لیے) کیلئے یہ بالکل ہی عجیب تھا کہ آئی ایس آئی کا ایک افسرملزمان کی سزا کے بارے میں اتنے فکرمند کیوں ہے لیکن میں نے کسی بھی قسم کا کوئی ردعمل نہیں دیاتاہم ایک موقع پر میں نے بتایا کہ جب آپ قانونی مراحل سے بخوبی واقف اور ٹرائل کا نتیجہ جانتے ہیں تو مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں؟ اس پر انہوں نے سیدھاپوچھا کہ اگرآپ کے پاس اپیل آتی ہے تو کیا موقف ہوگا، میں نے کہاکہ کیس کا قانون کے مطابق ویسا ہی فیصلہ ہوگا جیسا کہ ہرجج نے حلف اٹھایا ہوا ہے ،اگرمیرے پاس بھی کیس آیا تو میرٹ پر فیصلہ کریں گے ، میں اللہ کو جواب دہ ہوں۔ اس کے جواب میں اس شریف آدمی کی طرف سے آنیوالے کمنٹس حیران کن اورقابل مذمت تھے، اس کے منہ سے نکلنے والے الفاظ کے معانی کچھ یوں تھے’اس طرح تو ہماری دوسال کی محنت ضائع ہوجائے گی‘

19 جولائی 2018 کو دوسری ملاقات اوراٹھارہ جولائی کے میرے فیصلے پر ان کو آگاہ کیاگیا کہ اس درخواست گزار(شوکت عزیز صدیقی) کو سنبھالنے میں ناکامی پر چیف آف آرمی سٹاف نے طلب کیا ہے ، درخواست گزار نے کہہ دیا تھاکہ ریاست کے تمام اداروں اور محکموں کو آئین کے مطابق اپنی حدود کے اندر رہ کر کام کریں “۔

نجی ٹی وی چینل کے مطابق درخواست گزار نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے عہدے پر بحال کیا جائے۔یادرہے کہ 11 اکتوبر 2018 کو صدر مملکت کی منطوری کے بعد وزارت قانون نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹادیا تھا۔صدر مملکت کو سپریم جوڈیشل کونسل نے عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی تھی۔

کیا آپ لوگ شوکت عزیز صدیقی کی بات سے اتفاق کرتے ہیں؟ اگر کرتے ہیں تو کیوں اور اگر نہیں کرتے تو کیوں؟ اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کیجیے.

You cannot copy content of this page