سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تاریخی معاہدہ طے، سعودی حکومت نے شاندار خوشخبری سنا دی، شکریہ عمران خان


سعودی عرب کا پاکستان میں بڑی انویسٹمنٹ کا فیصلہ، پاکستانیوں کے لئے خوش خبری سعودی عرب کی طرف سے پاکستان میں ١٢ ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری! سعودی عرب کی پاکستان سی پیک معاہدے میں کون کون سی شرائط؟

سعودی عرب کا ایک وفد آجکل پاکستان کے دورے پر ہے اہم بات یہ ہے کہ یہ وفد پاکستان کے حکام سے کئی اہم معاملات میں معاہدے کر رہا ہے. ٹائمز آف اسلام آباد کے مطابق سعودی عرب 12 ارب ڈالرز کی بڑی انویسٹمنٹ پاکستان میں کرنے جارہا ہے. اس سرمایہ کاری سے پاکستان کی معیشت کو مضبوطی ملے گی. سرمایہ کاری کی اس رقم کا زیادہ تر حصّہ پٹرولیم سیکٹر میں خرچ کیا جاۓ گا. سعودی عرب کے مشیر برائے توانائی صنعت اور معدنی وسائل احمد حمید ارغامدی کی قیادت میں پاور اینڈ پیٹرولیم ڈویژن کے ساتھ مزاکرات کر چکیں ہیں. اور گزشتہ روز گوادر میں آئل ریفائنری کی مجوزہ جگہ کا دورہ بھی کر چکیے ہیں.

سعودی عرب ٩ ارب ڈالرز سے گوادر میں ایک آئل ریفائنری قائم کرے گا. جو روزانہ 5 لاکھ بیرل تیل پیدا کر سکے گی. پاکستانی حکومت نے سعودی حکومت سے وعدہ کیا ہے کہ ریفائنری پر سرمایہ کاری کا 16 فیصد پاکستان سعودی عرب کو واپس ادا کردے گا. ریفائنری کے علاوہ سعودی عرب ایک آئل سٹوریج بھی قائم کرے گا. اس میں 20 سے 30 لاکھ ٹن تک تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوگی.

جیسا کہ یہ بات طے ہے کہ سعودی عرب 12 ارب ڈالرز کی بڑی سرمایہ کاری پاکستان میں کرنے جارہا ہے لیکن اس سلسلے میں سعودی عرب کے جانب سے ایک شرط بھی رکھی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم سی پیک میں صرف اسی صورت میں سرمایہ کاری کریں گے کہ جب آپ ہماری یہ شرط منظور کریں گے. وہ شرط یہ ہے کہ وہ تیل اور گیس میں کسی بھی قسم کی پرائیویٹ چینی کمپنی کی شراکت داری میں سرمایہ کاری نہیں کریں گے.

یاد رہے کہ عمران خان نے پاکستان میں اپنا وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سعودی عرب میں جب پہلا دورہ کیا تو ادھر انہوں نے سعودی حکام اور سیکرٹری جنرل سے ملاقاتیں کی سعودی وزیر توانائی خالد آلفلی صدر سعودی انویسٹمنٹ فنڈسے ملاقات کے درمیان وزیراعظم عمران خان کے ہمرا وزیرخزانہ اسد عمر، عبدالرازق داود، سیکرٹری خارجہ اور سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر خان خشام بن صدیق بھی موجود تھے. ملاقات میں باہمی دلچسمی کے امور دو طرفہ تعلقات تجارت سرمایہ کاری اور اختصادی تعلقات کے امور پر بات چیت کی گئی. دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات مضبوط کرنے پر بھی تبصرہ کیا گیا.

ملاقات کے درمیان سعودی وزیر نے عمران خان سے خانہ کعبہ کے اندر جانے کے تجربے کا پوچھا تو انہوں نے جواب دیا یہ ہمارا پہلا اور سب سے بہترین دورہ ہے. ملاقات کے درمیان علاقائی اورخطّے کی سلامتی اور مسلم امّت کے درپیش مسائل پرغورکیا گیا. اس کے علاوہ وہاں مسلہ کشمیر اور فلسطینیوں کے حقوق کے لئے مل کر کوششیں کرنے پر بھی بات کی گئی. عمران خان کا وہاں کہنا تھے کہ پاکستان کسی کو اجازت نہیں دے گا کہ کوئی بھی سعودی عرب پر حملہ کرے.