ملتان زیادتی کیس ملزمان تا حال مفرور،پنچایتیوں نے شادی شدہ بہنیں واپس بھجوا کرکہا کنواری کو لاؤ،متاثرہ لڑکی کا موقف سامنے آ گیا


ملتان زیادتی کیس ملزمان تا حال مفرور،پنچایتیوں نے شادی شدہ بہنیں واپس بھجوا کرکہا کنواری کو لاؤ،متاثرہ لڑکی کا موقف سامنے آ گیا
اُردو آفیشل۔ تھانہ مظفر آباد کے علاقے بستی راجہ پور میں پنچایت کے حکم پر لڑکی سے زیادتی کے واقعہ کی مزید دلخراش تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ پنچایت کے حکم پر زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی (ع) نے بتایا کہ مرکزی ملزم حق نواز، امین، سعید پٹواری ، سونو اور دیگر افراد پنچایت میں موجود تھے، پنچایت حق نواز کے گھر میں ہوئی، پہلے میری دو شادی شدہ بہنوں کو پنچایت میں لے جایا گیا مگر پنچایت والوں نے شادی شدہ بہنوں کو واپس بھیج دیا اور کہا کہ کنواری لڑکی کو لے آﺅ۔ پنچایت کے سربراہ امین نے میرا ہاتھ پکڑ کر حق نواز کے حوالے کیا۔(ع) نے وزیراعلیٰ پنچایت اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ اسے انصاف فراہم کیا جائے۔

روزنامہ ایکسپریس کے مطابق پنچایت کے 20 افراد کے سامنے مرکزی ملزم حق نواز نے (ع) کوپکڑ کر اپنے بیٹے اشفاق کے حوالے کیا اور کمرے میں لے جاکر اس کے ساتھ زیادتی کا حکم دیا جس پر 13 سالہ (ع) نے شور مچایا ۔ وہ اپنی عزت بچانے کے لئے چیختی چلاتی رہی۔ (ع) کے لواحقین نے مداخلت کی کوشش کی تو حق نواز وغیرہ نے اسلحہ نکال لیا اور اسلحہ کے زور پر انہیں خاموش رہنے کا حکم دیا۔ لوگوں نے بتایا16 جولائی کو حق نواز کی بیٹی (ش) کھیت میں گھاس کاٹنے گئی تھی اسے ملزم عمر و ڈا نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ حق نواز نے بیٹی کے ساتھ زیادتی کا علم ہونے پر قانونی کارروائی کے بجائے خودبدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔ اس نے 18 جولائی کو اپنے گھر میں پنچایت بلائی ‘ جس میں اشفاق ‘ رفیق ‘ امین‘ سعید‘ سونا ‘ فیاض ‘ اعجاز اور آصف وغیرہ نے شرکت کی۔ پنچایت میں حق نواز نے مطالبہ کیا کہ اس کی بیٹی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے وہ زیادتی کا بدلہ زیادتی سے لے گا۔

پنچایت میں ملزم عمر کی دو بہنوں کو بار ی باری لایا گیا اور معافی کا مطالبہ کیا مگر حق نواز نے پنچایت میں ملزم عمر کی سب سے چھوٹی بیٹی 13 سالہ (ع) کو بلوایا اور اسے پکڑ کر اپنے بیٹے اشفاق کے حوالے کیا اور اسے کہا کہ اسے کمرے میں لے جاکر اپنی بہن کا بدلہ لو۔ رشتہ داروں کی منت سماجت کے باوجود ملزموں کو ترس نہ آیا اور نہ ہی انہوں نے معصوم لڑکی کی فریاد سنی ‘ جب ملزم نے کمرے میں جا کر (ع) سے زیادتی کی تو اس وقت کمرے کے باہر پنچایت اور علاقے کے بیسیوں افراد موجود تھے ۔ وقوعہ کے بعد متاثرہ لڑکی (ع) کی والدہ کنیز مائی کی درخواست پر خواتین پولیس سٹیشن میں ملزموں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا بعد میں ملزم حق نواز نے اپنی بیگم مائی کو مدعی بنا کر عمر وغیرہ کے خلاف مقدمہ درج کروایا ۔ اس طرح اس وقوعہ کے دو الگ الگ مقدمات درج کئے گئے۔متاثرہ لڑکی کی والدہ کنیز مائی نے بتایا کہ اس نے پنچایت میں جا کر منت سماجت کی مگر ظالموں نے ایک نہ سنی۔ زیادتی کا حکم دینے والی پنچایت کے سربراہ امین نے بتایا کہ پنچایت میں دس سے بارہ افراد شامل تھے ۔ اس نے مخالف فریق کوچار رشتوںکی پیشکش کی لیکن وہ راضی نہ ہوئے اور ملزم کے خاندان کی کم عمر لڑکی کو پنچایت میں بلانے کا مطالبہ کیا گیا۔ جب مبینہ ملزم کے خاندان سے کم عمر لڑکی کو لایا گیا تو وہ زبردستی لڑکی کو اٹھاکر لے گئے۔

پولیس نے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر پنچایت میں شریک 20ملزمان کو گرفتار کر لیا ان میں امین ‘ عامر ‘ آصف‘ حاجی محمد ‘ اعجاز ‘ فیاض احمد ‘ غلام شبیر ‘ سعید اور آمنے وغیرہ شامل ہیں تاہم واقعہ کے مرکزی ملزم حق نواز اشفاق اور عمر وغیرہ تاحال گرفتار نہیں ہوسکے۔ سٹی پولیس آفیسر ملتان احسن یونس نے بتایا کہ 16 مرد اور 4 خواتین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکیوں کے میڈیکل کروالئے گئے ہیں۔ ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائیگا۔ متاثرہ لڑکیوں (ع) اور (ش) کو تھانے بلا کر ان کے بیانات قلمبند کر لئے گئے۔متاثرہ لڑکی(ع) کا والد خدا بخش محنت مزدوری کرتا تھا جو چند سال قبل فوت ہو گیا ۔ وہ تین بہنیں اور دو بھائی ہیں۔ (ع) کے دونوں بھائی مقامی مل میں ملازمت کرتے ہیں۔ علاقے کے لوگوں مشتاق ‘ ملک ظفر اور آصف وغیرہ نے بتایا کہ (ع) اچھے کردار کی مالک ہے وہ غریب لوگ ہیں جبکہ ملزم حق نواز جانوروں کی خریدوفروخت کا کا روبار کرتا ہے اس کی مالی حالت بہتر ہے حق نواز کی ہٹ دھرمی اور بدلہ لینے کے اصرار کی وجہ سے یہ واقعہ ہو ا علاقے کے لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ حق نواز کا کردار ٹھیک نہیں ہے چند سال قبل اس نے بھی ایک خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا مگر ملزم کے خلاف قانونی کارروائی نہیں ہوئی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ زیادتی کا نشانہ بننے والی (ع) اور ملزم اشفاق قریشی رشتہ دار ہیں۔ (ع) رشتہ میں ملزم اشفاق کی پھوپھی ہے۔

You cannot copy content of this page