مادر ملت فاطمہ جناح کو کس نے کس کے کہنے پر قتل کیا‘اہم انکشافات

لاہور ( اردو آفیشل) ہماری بدقسمتی یہ ہے کے ہم نے پاکستان بنانے والوں اور بچانے والوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ المیہ یہ ہے کہ ڈرائنگ روم کی سیاست سے دور رہنے والی اس قومی شخصیت کو ایک روز ڈرائنگ روم میں ہی مردہ پایا گیا۔ چند سال قبل ممتاز قانون دان شریف الدین پیر زادہ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مادرِ ملت کی وفات طبعی نہیں ہوئی تھی جس کی تفصیل وہ نہ بتا سکے۔ اس انکشاف پر شدید ردِعمل بھی سامنے آیا اور متضاد آرا کے بعد اس معاملہ کی تحقیق و تصدیق نہ ہو سکی۔ محترمہ فاطمہ کے انتقال کی خبر لیڈی ہدایت اللہ کو ہوئی تھی اور انہوں نے نورالصباح کو فون کر کے اطلاح دی تھی جو سب سے پہلے موہٹہ پیلس پہنچی باہر لوگوں کا مجمع تھا۔ لیڈی ہدایت اللہ انہیں اس کمرے میں لے گئیں جہاں محترمہ فاطمہ جناح آرام سے لیٹی ہوئی تھیں وہاں ابولحسن اصفہانی اور ان کی بیگم بھی وہی موجود تھیں۔ کسی نے محترمہ فاطمہ جناح کے قتل کا ذکر نہیں کیا۔

قطب الدین عزیز نے بھی چند سال پہلے اسلام آباد کی ایک تقریب میں کہا تھا کہ مادرِملت طبعی موت مریں انہیں قتل نہیں کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ مادرِ ملت کے پاس میری والدہ کا آنا جانا تھا۔ 8 جولائی کی صبح ان کا ڈرائیور ہمارے گھر آیا اور اس نے اطلاح دی کہ مادرِملت کا انتقال ہوگیا ہے۔ قائد اعظمؒ کے بھانجے اکبر پیر بھائی نے بھی یہی خیال ظاہر کیا کہ محترمہ فاطمہ جناحؒ کو ان کے ساتھی ملازم نے قتل کیا۔ بعد ازاں متعدد شخصیات نے اپنے اپنے خدشات کا اظہار کیا مگر کوئی بھی اس معمہ کے حل کی جانب نہیں جا سکا۔کرنل ایم ایچ شاہ اور کرنل ایم جعفر نے اپنے دستخط کے ساتھ اس امر کی تصدیق کی کہ محترمہ فاطمہ جناحؒ کی موت سوتے میں حرکتِ قلب بند ہونے سے ہوئی، گو کہ محترمہ کی المناک موت کی خبر نے ملک و ملت کو ہلا کر رکھ دیا تھا، ہر شخص اس صدمہ سے پریشان تھا کہ قوم ایک شفیق اور مہربان سے محروم ہوگئی ہے جو بحرانی اور مشکل لمحات میں ان کو تسلی و تشفی دیتی تھی اور ان کے دُکھ درد میں برابر کی شریک تھیں۔ مگر مادرِملت کی موت ایک متنازعہ مسئلہ بن چکی تھی، ہر شخص ان کی اچانک موت سے پریشان تھا، اس واقعے کے متعلق اخباروں میں جو ڈاکٹروں کے بیانات چھپے ان کے مطابق محترمہ کی موت حرکت قلب بند ہونے سے واقع ہوئی تھی حا لا نکہ فاطمہ جناحؒ کی حالات زندگی کے مطالعے سے یہ بات کبھی بھی نہیں ملی کہ وہ عارضہ قلب کی مریضہ رہی ہوں۔ اس کے علاوہ ان لوگوں کے متضاد بیانات بھی اس اس المناک حادثہ کی اصلیت کو جاننے میں ممدومعاون ثابت نہیں ہوئے جو ان کے موت کے وقت پیش پیش تھے۔ براہ راست جنرل ایوب کے اس قتل میں ملوث ہونے کی شہادت نہیں ملی صرف اندازے اور قیاس آرائیاں موجود ہیں ،تاہم اکثریت نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ مادرِ ملت کی موت طبعی نہیں تھی۔ موہٹہ پیلس کے تقریباً 53 کمرے تھے۔مادرِملت کے خادمہ اور ڈرائیور بڑے وفادار تھے۔جب ہم موہٹہ پیلس پہنچے تو ڈاکٹر کرنل جیلانی شاہ،ایم اے اصفہانی اور دوسرے لوگ بھی آگئے۔محمد ہارون کی اہلیہ اور ان کے خاندان کی دوسری خواتین بھی پہنچ گئیں۔اس دوران میں نے والدہ سے پوچھا مادرِملت کا انتقال کیسے ہوا۔توانہوں نے کہا کہ گردن پر ایک سرخ لکیر ہے اور کوئی ثبوت نہیں ملا،بستر پر خون بھی نہیں تھا۔ڈاکٹر کرنل جیلانی ان کے معالج تھے۔ انہوں نے بھی یہی رپورٹ دی۔ بزرگ سیاست دان نواب زادہ نصراللہ خان مرحوم نے بھی شریف الدین پیر زادہ کے بیان کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں بھی مادرِملت کے قتل کا اُسی وقت پتا چل گیا تھا لیکن انسپکٹر جنرل پولیس مغربی پاکستان نے اس کیس کو دبا دیا، پھر مادرِملت کا ایک بھانجا بمبئی سے آیا اس نے بھی معاملہ اٹھایا مگر ایک سازش کے تحت اُسے بھی دبا دیا گیا۔ ایک اور انکوائری رپورٹ جو مغربی پاکستان کے وزیر ِ داخلہ قاضی فضل اللہ نے پیش کی، جس میں تفصیل سے موت کی وجوہات پر روشنی ڈالی گئی اور رپورٹ میں کہا گیا کہ میت کو غسل دینے والی تین خواتین اور تجہیزو تدفین کرنے والا حاجی کلو تھا۔ان خواتین اور حاجی کلو کے بیانات سے ثابت ہوتا ہے کہ محترمہ فاطمہ جناحؒ کی گردن اور جسم پر زخموں کے نشانات تھے مگر اس رپورٹ کو سامنے ہی نہ لایا گیا۔