غریدہ فاروقی کی لیک آڈیو میں آواز انہی کی ہے۔ تصدیق ہو گئی


کراچی (تازہ ترین ۔ 24 جولائی 2017ء): معروف ٹی وی اینکر غریدہ فاروقی کی جانب سے ملازمہ کو تشدد کا نشانہ بنانے اور ملازمہ کے اہل خانہ کو دھمکیاں دینے کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تو عدالت نے ملازمہ کو ان کے گھر سے بازیاب کروا لیا ۔ نجی ٹی وی چینل پر بات کرتے ہوئے معروف اینکر پرسن اقرار الحسن نے کہا کہ اگرچہ غریدہ فاروقی نے اس بچی کو پہچاننے سے انکار کرتے ہوئے معاملے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے لیکن ہم نے ایک سافٹ وئر کے ذریعے ان کے شو کی آواز اور اس ریکارڈنگ کی آواز کا جائزہ لیا جس پر یہ تصدیق ہو گئی ہے کہ یہ آواز خود غریدہ فاروقی کی ہی ہے۔
اقرار الحسن نے کہا کہ اس آڈیو کو مزید تصدیق کے لیے فرانزک لیب بھی بھجوا دیا گیا ہے تاکہ شک کا کوئی عنصر باقی نہ رہے اور اس آڈیو کو جعلی بھی قرار نہ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ غریدہ فاروقی کی جانب سے اس طرح کی الفاظ استعمال کرنا اور ان کی آڈیو ٹیپ لیک ہونے سے ان کی شخصیت کا ایک اور پہلو سامنے آ یا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شائستگی سے بیٹھ کر وہ ٹی وی پر اپنا پروگرام کرتی ہیں ، گھریلو معاملات میں ان کی زبان اس سے کہیں زیادہ کرخت اور نازیبا ہے۔
اقرار الحسن نے غریدہ فاروقی کے اس فعل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ اختیار آنے پر خود کو بہت بڑا سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ محترمہ نے بھی حال ہی میں وزیر اعظم کے ساتھ بیرون ملک کے دورے کیے اور اب انہیں لگتا ہے کہ وہ کوئی بھی کام وزیر اعظم ہاؤس میں فون کر کے کروا سکتی ہیں۔ لوگ ہمیں جانتے ہیں ، ہماری بات سنتے ہیں، اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہم غرور و تکبر میں آ جائیں۔ ملازمین کے ساتھ اس قسم کی حرکات غرور تکبر کا شاخسانہ ہیں جو کہ سراسر غلط ہے۔ انہوں نے مزید کیا کہا آپ بھی ملاحظہ کیجئیے: