’کبھی بھی انڈے فریج کے درازے میں نہ رکھیں کیونکہ اس سے۔۔۔‘ معروف سائنسدان نے وہ بات بتادی جو پاکستانیوں کا سب سے بڑا مسئلہ حل کردے گی


کھانے پکانے کے کچھ اصول نسل درنسل ماﺅں سے بچوں کو منتقل ہوتے آ رہے ہیں لیکن اب ایک ماہر نے انکشاف کیا ہے کہ ان میں سے کئی مقبول ترین اصول غلط ہیں۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق فوڈ سائنس کے ماہر ڈاکٹر سٹورٹ فیریمونڈ نے اپنی نئی کتاب میں بتایا ہے کہ ”عام طور پر لوگ گوشت کو مسالہ جات لگا کر کئی کئی گھنٹے کے لیے رکھ دیتے ہیں تاکہ مسالوں کا ذائقہ اچھی طرح گوشت میں سرایت کر جائے لیکن یہ خیال غلط ہے۔ مسالوں کا ذائقہ گوشت میں چند ملی میٹر سے نیچے جا ہی نہیں سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گوشت کا 75فیصد پانی پر مشتمل ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کے مساموں میں پانی کی کافی مقدار ہونے کی وجہ سے مسالے زیادہ نیچے نہیں جا پاتے۔“ ڈاکٹر سٹورٹ کے مطابق گوشت کو مسالے لگا کر صرف دو گھنٹے کے لیے رکھ دینا کافی ہوتا ہے۔ اتنے وقت میں مسالے کا ذائقہ جتنا نیچے جانا ہوتا ہے چلا جاتا ہے۔ گوشت کو مسالے لگا کر دو گھنٹے سے زیادہ رکھنا فضول ہے۔“
ہمیں شروع سے ہی سکھایا جاتا ہے کہ انڈے فریج کے دروازے میں بنی جگہ میں رکھنے چاہئیں لیکن ڈاکٹر سٹورٹ کے مطابق انڈوں کوفریج کے دروازے میں رکھنا سراسر غلط ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ”ہمیں جو انڈے ابالنے یا فرائی کرنے ہیں، یا ان کی سفیدی کو زردی سے الگ کرنا ہے تو وہ کبھی بھی فریج سے نہیں آنے چاہئیں، کیونکہ جب فریج کا دروازہ کھلتا بند ہوتا ہے تو انڈے ہلتے رہتے ہیں اور ان کی سفیدی مذکورہ استعمالات کے قابل نہیں رہتی۔“
ہمیں یہ بھی بچپن سے بتایا جاتا ہے کہ کچی سبزیاں صحت کے لیے بہت مفید ہوتی ہیں لیکن ڈاکٹر سٹورٹ نے اس عام تاثر کو بھی غلط قرار دیا ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ ”پھول گوبھی، لہسن، پیاز اور سرخ مرچ کچی حالت میں زیادہ مفید اور غذائیت سے بھرپور ہوتی ہے لیکن باقی سبزیاں، گاجر، ٹماٹر، بند گوبھی اور پالک وغیرہ پکنے کے بعد زیادہ مفید ہوتی ہیں۔“