نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا سینکڑوں مسلمانوں سے مسجد میں خطاب


نیوزی لینڈ کے وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے گزشتہ دنوں جمعہ کے روز مسلمان کی منٹو سے خطاب کیا اور اس دوران انہوں نے مکمل طور پر پاکستانی خواتین جیسا یہ بنا رکھا تھا اور انہوں نے سر کو ڈھانپا ہوا تھا
انہوں نے سیکڑوں مسلمانوں سے خطاب میں مسلم کمیونیٹی کے تعاون سے یکجہتی کو سراہانیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے مسلم خواتین کو گلے لگا کر دلاسا دیا۔ اس موقع پر ایک چھوٹی سی بچی نے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا ارڈرن کو تحفہ بھی پیش کیا جب وہ مسجد میں داخل ہوئی تو مسلمانوں نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا اور ان کے جذبے کو اور مسلمانوں کے ساتھ یہی جہتی کو خوب سراہا مسجد کے خطیب نے خطبے کے دوران بھی اپنے غم کا ذکر کیا اور کہا کہ جس طرح ہمیں نشانہ بنایا گیا ہے اس سے ہمارے دل ٹوٹ چکے ہیں

ہم شکستہ دل ہے لیکن اگر نیوزی لینڈ کے لوگ اور نیوزی لینڈ کے حکومت ہمارے ساتھ کھڑے نہ ہوتی تو ہم غم مر چکے ہو لیکن ہم بہت شکرگزار ہے نیوزی لینڈ کے عوام کا نیوزی لینڈ کی حکومت کا کیا انھوں نے ہمارے ساتھ کھڑے ہو کر ہمارے غم میں شریک ہوکر ہمارے ہم حلقے کیے اور ہم ان کا بہت زیادہ شکریہ بھی ادا کرتے ہیں جس کے بعد نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم نے عوام سے خطاب کیا اور کہا کہ سفید فام دہشت گرد نے جس طرح کی کارروائی کیوہ بالکل بھی قابل قبول نہیں ہے اور جو لوگ سفید فام سپرمیسی کی بات کرتے ہیں ان کی نیوزی لینڈ میں بالکل بھی جگہ نہیں ہے اور نہ ہی پوری دنیا میں ان کی کوئی جگہ ہے ہم ہمیشہ ایسی کاروائیوں کے خلاف کھڑے رہیں گے اور مسلمانوں نے جس طرح صبر کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیا وہ بھی قابل رشک اور قابل تحسین ہےدوران ملاقات نوجواننے جیسنڈاآرڈرن کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ دعا ہے ایک دن آپ مسلمان ہو جائیں۔ نوجوان کہتا ہے کہ میں 3 دن سے مسلسل رو رہا ہوں اور بس ایک ہی دعا کر رہا ہوں کہ ایک دن آپ بھی مسلمان ہو جائیں۔ آپ ایک بے مثال شخصیت کی مالک خاتون ہیں