جنوری فروری میں بچے پیدا کرنے کا بہترین فائدہ سائنسدانوں نے بتا دیا


علم نجوم سے کوئی انکار نہیں لیکن اس کو مستقبل کی پیشن گوئی کے لیے استعمال کرنا اور کسی کے کردار کے بارے میں اس سے جاننا اس کے بارے میں اسلام میں سختی سے منع کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس پر یقین نہیں کیا جائے ہاں اگر کچھ اشارے مل جاتے ہیں تو ممکن ہے کہ جو بات کی جارہی ہو ویسے ہی ہوجائے لیکن اس پر یقین کرنا اور اس کو اپنے اعتقاد میں شامل کرنا کفر ہے اور حتیٰ کہ یہاں تک کہا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ جس شخص نے کسی نجومی کو ہاتھ دکھایا تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی ماہرین علم نجوم کا کہنا ہے کہ مختلف مہینوں میں بچوں کی پیدائش ان کی شخصیات پر مختلف اثرات مرتب کرتی ہے ان کا کہنا تھا کہ کچھ ایسے مہینے بھی ہیں کہ جن میں بچے پیدا ہوجائے تو وہ شہرت حاصل کر لیتے ہیں اور کچھ ایسے مہینے بھی ہوتے ہیں کہ جن میں بچے پیدا ہو تو وہ ایک مخصوص قسم کی ذہنیت کے حامل ہوتے ہیں اور وہ ہر قسم کی فیلڈ میں جانے سے گھبراتے ہیں اور ان کے لیے خاص قسم کا میدان ہوتا ہے کہ جس کے اندر وہ خود کو بہت ہی زیادہ محفوظ تصور کرتے ہیں

اور ان میں ایک طرح سے خود اعتمادی ہوتی ہے ماہرین کا کہنا تھا کہ اکثر وہ لوگ کہ جو کسی بھی میدان کے اندر شہرت کی بلندیوں کو چھو تے ہیں وہ بچے زیادہ تر جنوری اور فروری کے مہینے میں پیدا ہوتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ یہ نہیں نے ایسے ہیں کہ جن میں پیدا ہونے والے اکثر بچے شہرت کی بلندی پر چلے جاتے ہیں اور ان کا کہنا یہ بھی تھا کہ ہم نے مطالعہ کیا اور یہ نتیجہ نکالا کہ چاہے وہ فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے ہوں یا کسی کھیل سے تعلق رکھنے والے ہوں یا پھر کوئی مشہور سیاستدان ہوں یا سائنسدان ہو یہ تمام لوگ جنوری فروری کے مہینے میں پیدا ہوئے ہیں ان کا کہنا تھا کہ یہ مہینہ بڑی ذرخیز قسم کا ہوتا ہے اور اس میں پیدا ہونے والے بچے انتہائی ذہین اور خوش قسمت تصور کئے جاتے ہیں مزید تفصیلات کے لیے ویڈیو ملاحظہ فرمائیے

You cannot copy content of this page