مشہور انویسٹی گیٹر کی موت


جنات قاضی کر قرآن مجید میں موجود ہے اس کے ساتھ ساتھ احادیث مبارکہ میں کہیں ایسے واقعات کا ذکر ہے جس میں جنات کا ذکر موجود ہے ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمارے یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جیسے انسان کو پیدا کیا اسی دیگر مخلوقات بھی اس دنیا میں موجود ہے لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو جنات کے وجود سے انکاری ہے جنات کا وجود کیا ہے کیسے دیکھتے ہیں یہ الگ موضوع ہے لیکن کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ جو ان جنات کا شکار ہوگئے ہیں آج ہم آپ کو ایک ایسے شخص کے بارے میں بتانے جا رہے ہیں کہ جو میڈیا پر اس وجہ سے شہرت حاصل کر بیٹھا کیونکہ وہ ایسی جگہوں پر جایا کرتا تھا کہ جس کے بارے میں لوگ کہا کرتے تھے کہ یہ جنات کی آماجگاہ ہے اس کا نام گوراو تیواری تھا اس کا پہلا جنونیت ہے کہ وہ ایک پائلٹ بنے اس کے لئے میں اس نے بہترین پڑھائی بھی کی لیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا یہ شخص کہا کرتا تھا کہ اس کو چھوٹی سی بچی نظر آتی ہے اور اکثر ایسے مقامات پر نظر آتی ہے

جہاں کوئی نہیں ہوتا بچی کا نظر آنا اس کو اس بات پر ابھارتا کہ وہ ان چیزوں کی تحقیق کرے اور دیکھیں گے کہ کیا چیز ہے اس کے بعد اس نے اپنی ٹیم بنائی جس کے ساتھ اس نے کئی راتیں مختلف ہوٹلوں میں گزاری قبرستان میں کبھی اس کو رہنا پڑا اور کبھی ایسی جگہوں پر جو بالکل سنسان اور بیابان تھی کئی سال اس فلم میں آنے کے بعد اس نے انڈیا واپسی کی اور یہاں پر صرف خوبصورت ملی جس کے بعد اس نے یہاں پر ایک ایسی سوسائٹی بنائی جو ایسے لوگوں پر مشتمل تھی کہ جو چاہتے تھے کہ جنات کے بارے میں تحقیق کی ہے اور دیکھا جائے گی کیا ان کا واقعی موجود ہے اگر ہے تو کیا ہے صرف 32 سال کے عمر میں اس کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا اس کی موت کی کیا وجوہات تھی اور اس کی کیا کیا ایسی مصروفیات بھی کی جس کی بنا پر اس کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا اس کے لیے ویڈیو ملاحظہ فرمائیں

You cannot copy content of this page