اگر اوزن لئیر ختم ہو جائے تو ہمارے ساتھ کیا ہو گا ؟


انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالی اس کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے تمام دنیا کو تمام کائنات کو اس کے تابع کر دیتے اور اس کا اللہ تعالی نے قرآن میں فرمایا کہ ہم نے تمہارے لئے تمام جہانوں کو تباہ کردیا ہے مسخر کردیا ہیں انسان جیسے چاہتا ہے زندگی گزارتا ہے اور اللہ تعالی کی تمام مخلوقات سے فائدہ اٹھاتا ہے اللہ تعالی نے انسان کی زندگی کو بہتر بنانے اور ان کو روشن کرنے کے لئے سورج بنایا ہے ایسے ہیں اس سورج کی تابکار شیعوں سے بچانے کے لئے اللہ تعالی نے زمین کے اوپر ایک مخصوص قسم کی چادر ڈالی ہوئی ہے جس کو سائنس کی زبان میں اوزون کی تہہ کہتے ہیں ناظرین دراصل سورج سے آنے والی روشنی تین طرح کی ہوتی ہے جنوری سے ایک قسم کی روشنی انتہائی تابکار ہوتی ہے اگر یہ روشنی انسان کے جسم پر پڑ جائے تو انسان کے جسم جیسے جس کی وجہ سے انسان کی حسن کو کینسر ہو جاتی ہے اور اس کی وجہ سے آنکھوں کے مسائل ہوتے ہیں اگر یہ روشنی مسلسل پڑھتے رہے تو اس کی وجہ سے زمین پر فصل کا نام ہیں ختم ہوجائے ہر جاندار شے جل کا ختم ہوجائے یہ اوزون کی تہہ ان الٹروائلٹ صفوں کو روکے رکھتی ہے اور زمین کے اندر نہیں آنے دیتی جب کہ وہ شوکی انسان کی زندگی کے لئے ضروری ہے

وہ اس میں سے اندر آ جاتی ہے جس کی وجہ سے زمین پر آپ کو ہر طرف دکھائی ہوئی نظر آتی ہے لیکن انسان نے اس کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے اور کر رہے ہیں دراصل انسان گاڑیوں کی صورت میں اس سے نکلتے ہوئے بھی صورت میں کارخانوں کی صورت میں جہاز سے نکلتے ہی کاربن کی صورت میں اور ایسے ہی دوسری آلودگی کی وجہ سے اس کی مسلسل نقصان پہنچایا جا رہا ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ اوزون کی تہہ میں ایک بہت بڑا شگاف ہوچکا ہے اور وزن کی طرح ہمیشہ کیلئے ختم ہونے جارہی ہے کہ یہ پہلے اتنا نہیں دیکھا گیا جتنا اب ہے بلکہ یہاں تک کہا گیا ہے کہ اس کا ہندوستان کے رقبہ کتنا ہے اس کا سب سے زیادہ اثر قطب جنوبی پر ہوا ہے اور وہاں کے لوگوں پر ان کی طرز زندگی پر اس کا اثر دیکھنے میں نظر آرہا ہے اگر اوزون کی تہہ میں کمی آجائے یا فری ختم ہو جائے تو اس کو جس سے انسان کی زندگی ختم ہو جائے گی کیونکہ اس کی وجہ سے اس بار بننے لگ جائے گی بارش کا نظام متاثر ہوجائے گا اور ہر جگہ پر سیلاب طوفان کا سامنا ہوگا اس کی وجہ سے ختم ہو جائے گی اس کی وجہ سے پھل دار درخت ختم ہو جائیں گے اور اس کی وجہ سے انسان کو انتہائی خطرناک بیماریوں جیسے کینسر اور دیگر جلدی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑے گا