چاول بناتے ہوئے یہ غلطی کبھی نہ کریں


کوئی پاکستانی ہوں اور وہ چاول نہ کھائے ہندوستانی ہو اور اسے بریانی پسندہ ہو بنگالیوں اور ابلے چاول نہ کھائے ایسا ممکن نہیں ہمارے گاؤں میں سے اکثر غذائیں ایسی ہیں کہ جو ہم روز مرہ استعمال کرتے ہیں ان میں سے اکثر ایسی ہیں کہ جو ہماری صحت کے لیے نہایت مفید ہوتی ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہیں یہ بھی ہمارے لئے زہر بن دی جا رہی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم لوگ فصلوں کی زیادہ پیداوار کے لئے ایسی زہریلی سپرے کا استعمال کرتے ہیں اور ایسے زہریلے مادوں کا استعمال کرتے ہیں کہ جو ان غذاؤں کے اندر سرایت کر جاتے ہیں اور بہت مشکل سے نکلتے ہیں ایسے ہی چاول بھی ہے کہ اس کی فصل پر زہریلے سپرے کیے جاتے ہیں اور ان کو کبھی اتنی زیادہ مقدار میں ڈالی جاتی ہے کہ جس کے اثرات فصل میں آ جاتے ہیں ناظرین ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جس طریقے سے چاول پکائے جاتے ہیں اس کی وجہ سے چاولوں سے زہریلے اجزاء کا کافی حد تک خاتمہ ہوجاتا ہے لیکن پھر بھی اتنی مقدار میں یہ اجزاء باقی رہتے ہیں جو انسان کے لئے سخت نقصان دہ ہوتے ہیں چاول ہی کو لیجیے جب بھی چاول بنتے ہیں تو اس سے پہلے اس کے لیے پانی میں رکھا جاتا ہے زیادہ سے زیادہ آدھے گھنٹے یا ایک گھنٹے کے لئے اس کو پانی میں رکھا جاتا ہے اور اس کے بعد اس کو پکایا جاتا ہے اور پکانے کے لیے بھی پانی کا استعمال کیا جاتا ہے

یعنی ایک حصہ اگر چاول ہے تو دو حصے پانی کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن ڈاکٹر کہتے ہیں پانی کی اس قدر استعمال سے بھی یہ زہر اذان ہی نکلتے اور نہ ہی یہ بہترین طریقہ ہے ڈاکٹروں نے کچھ طریقے آزمائے جو کہ اس مقصد کے لئے تھے تاکہ دیکھا جائے کہ کون سا طریقہ زیادہ مناسب ہے انہوں نے سب سے پہلے گھریلو طریقہ استعمال کیا یہ نہیں چاولوں کو کچھ دیر کیلئے پانی میں رکھا اور اس کے بعد اس کے دو حصے پانی اور ایک حصہ چاول کو آپس میں ملا کر پکائیں اس کے بعد دوبارہ اس کا ٹیسٹ دیا گیا تو اس میں سے زہریلے آزاد تقریبا 50 فیصد تک ختم ہوچکے تھے اس کے بعد ڈاکٹروں نے یہ کیا کیا کچھ دیر زیادہ پانی میں چاولوں کو رکھا گیا لیکن اسے بھی 50 فیصد سے زائد زہریلے اجزا ختم نہ ہو سکے اس کے بعد انہوں نے چاولوں کو پانی میں رکھا اور اس کو پوری رات پانی میں بھی کوئی رکھا اور اس کے بعد اس کو پکایا تو دلچسپ نتیجہ سامنے آیا اس طریقہ کار کی مدد سے چاولوں سے اسی فیصد سے زائد زہریلے اجزا ختم ہوچکے تھے ہمارے گھر میں عمومی طریقے استعمال کیا جاتا ہے کہ کچھ دیر کے لیے چاول رکھتی جاتے ہیں اور اس کے بعد ان کو پکڑ لیا جاتا ہے یاد رہے یہ طریقہ بالکل بھی مناسب نہیں اس کی وجہ سے چاول زیادہ بڑا بھی نہیں بنتا اور اس کے زہریلے اذا بھی اسے مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے جو کہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں اس لیے کوشش کریں کہ آپ نے جب بھی چاول بنانے ہوں تو اس کو رات بھر بھی کوئی رکھیں تاکہ دیکھنے میں اور کھانے میں بھی مناسب ہو بلکہ اس کے ساتھ ساتھ زہریلے آج اسے بھی مکمل پاک ہو

You cannot copy content of this page