’میں مسلمان خاندان میں پیدا ہوئی تھی لیکن اب اسلام چھوڑنا چاہتی ہوں کیونکہ۔۔۔


دین اسلام روشنی کا وہ وسیلہ ہے جو بھٹکے ہوئے لوگوں کو سیدھا راستہ دکھا کر ان کی زندگی ہمیشہ کے لئے بدل دیتا ہے لیکن بدقسمتی دیکھئے کہ اس دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو پیدا تو مسلمان ہوتے ہیں لیکن گمراہی کے راستے پر نکل کھڑے ہوتے ہیں اور اپنی دنیا و آخرت دونوں برباد کر لیتے ہیں ۔

آسٹریلیا میں مقیم ایک نوجوان مسلم لڑکی بھی ایسی ہی افسوسناک مثال ہے، جس کا کہنا ہے کہ ”میں اپنا دین ترک کرنا چاہتی ہوں لیکن مجھے خوف لاحق ہے کہ ایسا کرنے پر میرا خاندان مجھ سے قطع تعلق کرلے گا اور مجھے قتل بھی کیا جاسکتا ہے۔“

میل آن لائن کے مطابق اس 25 سالہ لڑکی نے اپنی ’محرومیاں‘ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ”میں نے کبھی شراب نہیں پی، موسیقی نہیں سنی اور ہمیشہ نقاب پہننے کی وجہ سے اپنے چہرے پر ہوا کا چھونا محسوس نہیں کیا۔ نہ ہی میں کبھی فلم دیکھنے گئی ہوں۔ اب میں اپنا دین ترک کرنا چاہتی ہوں۔ میں اپنا حجاب اتارنا چاہتی ہوں۔ میں خود کو قید محسوس کرتی ہوں۔

لیکن اس بات سے خوفزدہ ہوں کہ مذہب چھوڑنے کے بارے میں کسی کو پتہ چل گیا تو میرے ساتھ کیا ہوگا۔ مجھے گھریلو تشدد کا بھی سامنا رہتا ہے اور اگر کسی کو پتا چل گیا کہ میں اپنا مذہب چھوڑنا چاہتی ہوں تو شاید مجھے قتل ہی کر دیا جائے گا۔ میں ’ایکس مسلم نیٹ ورک‘ کی شکر گزار ہوں، جن کی وجہ سے مجھے کم از کم اپنے جذبات کے اظہار کا موقع تو ملا۔“