ایسا ہوتا ہے سچا مسلمان سوشل پیج پر نبی کریمؐ کی شان میں گستاخی کا سن کر آنکھوں سے آنسو کیوں بہے۔۔۔؟جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے آنسوئوں پر اعتراض کرنے والے میڈیا گروپ کو دل کی حقیقت بتادی


اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا ہے کہ جس کسی نے بھی توہین رسالت کی وہ قانون کے شکنجے سے نہیں بچ سکتا اور خبر بیچنے کے لئے ناموس رسالت بیچنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی، ٹی وی والوں کو تو یہ بھی برا لگا کہ آرڈر لکھواتے ہوئے جج کے آنسو کیوں بہے، کچھ لوگ اس کو مختلف زاویے سے دیکھ رہے ہیں، اللہ سب کو ہدایت دے لیکن اپنا ایمان بیچنےوالوں کوناموس بیچنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی

،عاصمہ جہانگیرنے مجھے موذن یا خطیب کہا یہ میر ے لیے اعزاز کی بات ہے. عوام سے اپیل ہے کہ اگر گستاخانہ عمل کسی کے علم میں ہو تو ایف آئی اے کو آگاہ کر کے تعاون کیا جائے.

ٹی وی والوں کو تو یہ بھی برا لگا کہ آرڈر لکھواتے ہوئے جج کے آنسو کیوں بہے، اللہ سب کو ہدایت دے. آخری فیصلہ لکھنے کیلئے علما، صحافیوں اور وکلا سمیت نقادوں سے بھی رائے لی جائے گی.
..

You cannot copy content of this page