دولے شاہ کے چوہوں سے جڑی کچھ ماورائی باتیں ۔۔ حقیقت کیا ہے ؟


یہ دنیا ایسے ایسے پراسرار رازوں کی حامل ہے کہ کئی واقعات نظر کے سامنے آنے پر بھی عقل میں نہیں آتے . کئی واقعات بس باتیں ہی باتیں لگتی ہیں .

فہم ادراک سے بالا تر کئی رازوں میں سے ایک راز ’’دولے شاہ کے چوہے ‘‘ بھی ہیں جن سے جڑی کئی ماورائی اور ان کی تخلیق سے متعلق باتیں بھی لوگوں کےلئے حیران کن ہیں .روایات کے مطابق حضرت شاہ دولہ دریائی نہ صرف روحانی پیشوا تھے بلکہ وہ رفاہ عامہ کے بھی بڑے دلدارتھے.اگر انھیں اپنے زمانے کا ایک معروف سماجی کارکن کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا. مغل بادشاہ اور گجرات میں ان کے نمائندے ان سے برا قلبی لگاؤ رکھتے تھے اور ان کے کئی طرح کے وطائف مقرر کیے ہوئے تھے. یہ وظائف شاہ دولہ رفاع عام کے کاموں پر خرچ کر دیتے تھے. انہوں نے شہر میں نہ صرف نالیاں تعمیر کراوئی بلکہ اہم گزر گاہوں میں آنے والے نالوں پر پل بھی تعمیر کروائے . جگہ جگہ مسجدیں اور مسافروں کے لیے سرائے بنوائیں.انھوں اس علاقے میں بے سہارا اور مفلوک الحال بچوں کی پرورش اور نگہداشت کے لیے ادارے قائم کرنے کی بنیاد رکھی اور کئی یتیم خانوں کی طرز پر عمارتیں بنوائی .انہی سراؤں میں ایسے چھوٹے سر والے بچوں کی بھی پرورش کی جاتی تھی

جنہیں بعد میں شادولہ کے چوئے کہا جانے لگا.حضرت شاہ دولہ کے مزار پر جہاں دور دراز سے معتقدین اپنی منتوں و مرادوں کے پورا ہونے کی آس لے کر آتے ہیں.وہاں ایسی خواتین کی تعداد زیادہ ہوتی ہے کہ جو اولاد کی نعمت سے محروم ہوتی ہیں. اس کے علاوہ بہت سے خاندان اپنے چھوٹے بچوں کو نظر بد سے بچائے رکھنے کے لیے یا کوئی پیدائشی نقص کو دور کرنے کی دعا کرنے کے لیے آتے ہیں.مزار سے منسوب روایتیں اگرچہ گجرات شہر میں تو اتنی مقبول نہیں کہ جتنی یہ ملک کے دوسرے شہروں میں مشہور ہیں.کہا جاتا ہے کہ جو بے اولاد مرد یا عورت حضرت شاہ دولہ کے مزار پر جا کر اولاد کی منت مانتا ہے تو اس کے ہاں پیدا ہونے والی پہلی اولاد ایب نارمل ہوتی ہے یعنی اس کا سر چھوٹا ہوتا ہے. اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہوتی اور وہ بے زبان ہوتا ہے. اور منت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کو مزار پر چھوڑنا پڑتا ہے.

ایسے بچوں کا سر چھوٹا اور چہرہ بڑا ہوتا ہے. جبکہ بہت سے لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ جو لوگ ایسے بچوں کو درگاہ کے نام پر وقف نہیں کرتے یا مزار پر چھوڑ کر نہیں جاتے تو ان کے ہاں پھر ایسے ہی چوہے بچے پیدا ہوتے ہیںتاہم گجرات اور آس پاس کے لوگوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ شاہ دولہ کے چوہے اللہ کے بہت نزدیک ہوتے ہیں اور ان کی دعا ہرحال میں قبول ہوتی ہے. یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شاہ دولہ کا چوہالوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرتا ہے تو ہر شخص حسب توفیق انہیں ضرور دیتا ہے. اور انہیں خالی ہاتھ نہیں جانے دیتے. کچھ لوگ اگرچہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو بچے مزار پر دیے جاتے ہیں انہیں کمسنی میں ہی آہنی ٹوپیاں پہنا دی جاتی ہیں جس کی وجہ سے ان کے سر چھوٹے رہ جاتے ہیں اور حقیقت یہی ہے .

You cannot copy content of this page